Juraat:
2025-07-04@09:05:13 GMT

افریقہ میں خاموش انقلاب کی بنیاد!

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

افریقہ میں خاموش انقلاب کی بنیاد!

جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے

کون ہے کیپٹن ابراہیم تراورے، جس نے افریقہ میں خاموش انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے، جو 36سال کی عمر میں برکینا فاسو اور دنیاکے سب سے کم عمر صدر بنے ؟کیوں آج ہر نوجوان اسے جاننا چاہتا ہے؟ کون سے کارنامے ہیں جو اس نے کیے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر تیزی سے اُبھرا۔ 14مارچ 1988ء میں پیدا ہونے والے ابراہیم تراورے نے 2010 میں فوج میں داخلہ لیا اور تعلیم بھی جاری رکھی ۔فوج میں اس نے جارجس ناملولو ملٹری اکیڈمی میں ٹریننگ لی، اس نے یہاں رہتے ہوئے ہر قسم کی فوجی تربیت حاصل کی ۔2012 میں اس نے لیفٹیننٹ دوم کے طور پر گریجویشن کی۔ 2014میں ملٹری میں لیفٹیننٹ کا چارج سنبھالا جس کے بعد یورپ کے آگے دم ہلانے والے صدر کے خلاف 2022میں ملٹری بغاوت ہوئی اوربرکینا فاسو کی ملٹری نے پال ہینڈری کو عبوری حکمراں بنا دیا جو حکومت سنبھال نہ سکے ۔ 2024 میں ابراہیم تراور ے نے صدارتی انتخابات میں فتح حاصل کی اور صدر مملکت بنے ۔حکمراں بننے کے بعد اس نے الگ خطوط پر سوچنا اور عمل کرنا شروع کیا۔ اس نے غور کیا کہ افریقہ دنیا میں سب سے غریب، بھوکا اور پیاسا کیوں ہے جبکہ افریقہ کے پاس معدنیات کی کمی نہیں ہے۔ سونے سے لے کر ہیرے، تیل ،یورینیم ،کوہالٹ اور دوسرے ذخائر کی بہتات ہے جبکہ اس کے برعکس مغربی میڈیا افریقہ کا غربت بھرا منظر پیش کرتا ہے، جس میں بچے ننگے پاؤں اور جگہ جگہ غربت کا راج ہے۔ ابراہیم تراورے کی سمجھ میں اس کی اصل وجہ آئی کہ امریکہ اور یورپی ممالک خاص کر فرانس یہاں کی بیش قیمت چیزوں کو نکال کر لے جاتے ہیں اور یہاں کے لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔ انہیں مزدور اور غلام بنا کر رکھتے ہیں۔ انہیں روٹی ،کپڑا اور مکان بھی نہیں دیتے۔ ان کا خون چوستے ہیں اور بدلے میں دو وقت کی روٹی بھی ڈھنگ سے نہیں دیتے۔ افریقی لوگوں کو ہنر اور تعلیم سے بے بہرا رکھ کر ان پر من مانی حکومت کرتے ہیں۔ برکینا فاسو افریقہ کا ایک ملک ہے یہاں کی آبادی 2کروڑ 25 لاکھ ہے۔ اس کا رقبہ 2لاکھ 47ہزار 223مربع کلومیٹر ہے ۔یہاں کے لوگ مور پیسا نیولا اور فیولا زبانیں بولتے ہیں ۔یہ چاروں زبانیں یہاں کی سرکاری زبانیں ہیں۔ مگر اس کے بیشتراداروں اور تعلیم گاہوں میں انگریزی اور فرینچ زبانین استعمال ہوتی ہیں۔
یہ ایک مسلم اکثریتی ملک ہے یہاں کی کل آبادی 63.

8فیصد مسلمان ہیں۔ 26فیصد کرسچن اور باقی دوسرے مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ اس ملک میں غریبی بہت ہے۔ کھانے کو تین وقت کھانا میسر نہیں۔ پینے کے پانی کی قلت ہے۔ زیادہ تر نوجوان فرانسیسی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ ابراہیم تراورے نے یورپ کے مفادات خانے بند کر دیے ہیں۔ روس کی فوج کوملک سے نکل جانے کا حکم دیا۔ معدنیات کے ذخائر کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام لائسنس رد کر دیے۔ پورے یورپ اور امریکہ میں زلزلہ آگیا۔ برکینا فاسو کی صدر ابراہیم تراورے نے اپنے ایک بیان میں جو باتیں کیں وہ دل کو چھوتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ تمام باتیں آج نہیں تو کل افریقہ اتحاد کے لیے بنیاد کا پتھر ثابت ہونگیں، ویسے بہت سے افریقی ممالک ابھی سے متحد افریقہ کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے یورپ کے بیشتر ممالک اور امریکہ کے میڈیا کوللکارتے ہوئے کہا کہ سی این این ، بی بی سی فرانس 24میں تم سب کو دیکھ رہا ہوں ۔میں تمہارا ہر جھوٹ ریکارڈ کر رہا ہوں۔ میں تمہارے ذریعے بنائی گئی توڑی مروڑی باتوں کو جمع کر رہا ہوں۔ میں ابراہیم تراورے ہوں اور آج میں تمہارا نقاب اُتار رہا ہوں جسے تم ایک نوجوان فوجی حکمراں کہتے ہو، جسے تم ایک خطرناک دہشت گرد کہتے ہو ،جسے تم مغرب مخالف ٹاٹا شاہ کہتے ہو، آج میں تمہیں سچائی بتا رہا ہوں اور اس بار تم مائک بند نہیں کر سکتے۔ اس بار تم اپنے کیمرے نہیں ہٹا سکتے۔ اس بار تمہارے ایڈیٹرز اس تقریر کی ایڈیٹنگ نہیں کر سکتے کیونکہ اب وہ زمانہ نہیں رہا۔ اب کروڑوں لوگ یہ باتیں سنیں گے ۔ تمہارے فلٹر سے گزرے بنا تمہاری جھوٹ میں لپٹی گندگی سن کر میں اتنا بڑا ہو گیا میں نے اپنی زندگی کے دن تمہارے جھوٹ میں گزارے ۔بچپن میں ٹی وی پر افریقہ دیکھا کرتا تھا۔ ہمیشہ وہی تصویریں مکھیاں بھنبھناتے، بچے بھوک سے بلبلاتے، لوگ پانی کے لیے ترستے، عورتیں سوکھی کھیتیاں بنجر زمینیں بے بس مزدور کالے سیاہ دھوپ میں تپتے جلتے لوگ چوری چکاری کرتے نوجوان یہی افریقہ ہے ،تم نے بتایا ہمیں خود پر شرم آنے لگی، پھر میں بڑا ہوا میں نے تعلیم حاصل کی ریسرچ کی اور سوال قائم کیے تو مجھے اچھی طرح سمجھ میں آگیا کہ جو افریقہ تم نے ہمیں دکھایا بتایا جو کہانی تم نے ہمیں سنائی وہ جھوٹی تھی ،جو قسمت تم نے طے کی تھی وہ پہلے سے لکھی ہوا ایک اسکرپٹ تھا۔ تم نے افریقہ کو ایسے پیش کیا جیسے یہاں انسان نہیں جانور بستے ہوں ۔ہر دن یہی کہانی تمہاری اسکرین پر ہوتی، جب کوئی افریقہ کہتا تو تمہاری لغت میں صرف بھوک جنگ بیماری بدعنوانیاں دہشت گردی لاقانونیت کا ہی ذکر ہوتا ۔نا امید، ناکامیابی، نہ فروغ نہ مزاحمت نہ عزت و احترام نہ فخر نہ فتح ،تو میں تم سے پوچھتا ہوں نیویارک ٹائمز واشنگٹن پوسٹ گارجین ٹائم میگزین وغیرہ نے کبھی افریقہ کی کامیابیوں کو سرخی بنایا؟ کتنی بار تم نے روانڈا کی ٹیکنالوجی انقلاب کے بارے میں لکھا؟ کتنی بار تم نے ایتھوپیا کی نشاة ثانیہ کو دکھایا ؟کتنی بار تم نے بونسیوانہ کی جمہوری کامیابی کی تعریف کی؟ کتنی بار تم نے کینیا کی انٹرپرینیوشپ کی داستان سنائی تھی؟ نہیں کیونکہ یہ سب تمہارے تحریر کردہ اسکرپٹ میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ تمہاری افریقہ کی کہانی میں افریقہ تو کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر افریقہ کو مدد کی ضرورت نہیں وہ بچھڑے بھی نہیں تو تمہاری مداخلت کیسے ہو؟ کیا کبھی تمہارے کسی ایڈیٹر یا رپورٹر نے سوچا کہ دنیا کی سب سے امیر زمینوں میں بسے لوگ غریب کیوں ہیں؟ دنیا کا 70فیصد کوبالٹ، 90فیصد پلیٹینیم، 30 فیصد سونا، 65فیصد ہیرے، 35فیصد یورینیم وغیرہ افریقی ممالک میں ملتا ہے۔ پھر بھی افریقہ انتہائی غریب ہے۔ امریکہ یورپ اور خاص کر فرانس یہ سب یہاں سے لے جاتا ہے اور بیچارہ افریقہ غریب کا غریب ہی ہے ۔مگر اب حالات بدل گئے ہیں ۔برکینیا کے صدر ابراہیم تراور ے کے اس بیان نے پوری دنیا خاص کر امریکہ اور یورپ میں کھلبلی مچا دی ہے۔ وہاں کے حکمران ابراہیم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے منصوبے بنا رہے ہیں ۔ابراہیم نے روس اور چین کے ساتھ مل کر اپنے ملک میں انقلابی تبدیلیاں لانی شروع کر دی ہیں۔ ہسپتال، اسکول، کالج، یونیورسٹیز ،بازار، کشادہ سڑکیں، بڑی بڑی عمارتیں معدنیات کی ترقی یافتہ بڑے بڑے کارخانے صنعتیں جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار، جنگی جہاز، ٹینک توپ بنانے اور لینے کے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ نئے نئے پروجیکٹ لگائے جا رہے ہیں ۔نیوکلیئر پلانٹ کی تیاری چل رہی ہے۔ معاہدے ہو رہے ہیں ۔معدنیات سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ ملک کے فروغ میں اور فوج کے شعبے میں خرچ ہو رہا ہے۔ فرانس کا عمل دخل بالکل ختم ہو رہا ہے۔ ابراہیم نے فلسطین اور ایران میں بھی اپنی افواج بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک نیا سورج طلوع ہو رہا ہے۔ افریقہ کے لوگوں کو ابراہیم سے بہت ساری امیدیں ہیں۔ توقع ہے کہ اسی جدوجہد سے پورے افریقہ میں خاموش انقلاب برپا ہوگا جو افریقہ سے غربت اور افلاس کا خاتمہ کر دے گا۔

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ابراہیم تراورے کتنی بار تم نے یہاں کی رہے ہیں رہا ہوں کے لوگ

پڑھیں:

پسماندہ علاقوں میں تعلیمی انقلاب، 19 ارب روپے کے دانش سکول منصوبے منظور

ا سلام آ باد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف کے تعلیمی وژن کے تحت ملک کے پسماندہ علاقوں میں دانش سکولز کے قیام کے لیے 19 ارب 25 کروڑ روپے مالیت کے منصوبے منظور کر لیے گئے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں مجموعی طور پر تعلیم سے متعلق چھ منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
نجی ٹی وی    آ ج نیوز   نے  اعلامیے کے حوالے سے بتایا کہ  دانش سکولز قلعہ سیف اللہ، ژوب، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی اور دیگر پسماندہ اضلاع میں قائم کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں کی لاگت وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر برداشت کریں گی، جن میں ہر فریق 50 فیصد حصہ ادا کرے گا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ملک میں ڈھائی کروڑ بچے تاحال سکولوں سے باہر ہیں، ایسے میں تعلیم کا فروغ اور خواندگی میں اضافہ قومی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دانش سکولز پسماندہ علاقوں میں تعلیمی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان سکولز میں جدید تدریسی سہولیات، لائبریری، کمپیوٹر لیب، لیبارٹریز، اور اساتذہ کے لیے رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ معیاری تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تعلیمی بجٹ میں اضافے اور عملی منصوبوں کی منظوری کو ماہرین تعلیم نے خوش آئند قرار دیا ہے، اور اسے پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔

کراچی: بی آر ٹی اور پیپلز بس سروس جزوی معطل، ترجمان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پسماندہ علاقوں میں تعلیمی انقلاب، 19 ارب روپے کے دانش سکول منصوبے منظور
  • نجات کی بنیاد اسلام؟
  • پی ٹی آئی اجلاس؛ یہاں ہرکوئی کمپرومائزڈ ہے، کوئی کسی کے کہنے پر لگا ہوا ہے، علی امین گنڈاپور
  • پی ٹی آئی اجلاس؛ یہاں کوئی کمپرومائزڈ ہے، کوئی کسی کے کہنے پر لگا ہوا ہے، علی امین گنڈاپور
  • ڈیگو گارسیا: بحرِ ہند کا فوجی قلعہ، ایک خاموش مگر مہلک ایئر بیس
  • تخیل سے حقیقت تک،پاکستان کا خاموش سفر
  • ٹرمپ کا ثالثی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، جنگ بندی میں ان کا کوئی دخل نہیں، جے شنکر
  • وہ خاموش نہیں رہیں گی
  • خود انقلاب ، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی کامیابی کا ایک کوڈ بن گیا