5 جولائی 77 کو آمریت نے قوم میں نفرت ، تقسیم کے بیج بوئے: بلاول
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی+نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 5 جولائی1977 ء کے مارشل لا کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دن عوامی منتخب حکومت پر شب خون مارا گیا جس نے ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ ایکس پر جاری بیان میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے جن کے اثرات آج بھی سیاسی، سماجی اور قومی شعور پر واضح ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ نفرت، انتشار اور شخصی اقتدار کی دلدل سے نکل کر اتحاد، برداشت اور آئین کی بالادستی کو اپنایا جائے۔ ہم سب کو مل کر آمریت کے اندھیروں کا خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک روشن، پرامن اور جمہوری پاکستان دے سکیں۔ علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری نے یومِ عاشورہ پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عاشورہ ہمیں حق اور باطل، عدل اور ظلم کے درمیان ابدی جنگ کی یاد دلاتا ہے۔ کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام، ان کے اہلِ بیت اور جاں نثار ساتھیوں کی عظیم قربانی ہر اْس انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے اور حق پر ڈٹا رہتا ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ شہادتِ امام حسینؓ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ہمارے دین کی روح ہے۔ یہ قربانی ہمیں ہمت، صبر اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتا ہے کہ ظالم چاہے کتنا ہی طاقتور ہو، اْس کے سامنے سر جھکانا مومن کا شیوہ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔