کراچی: بغدادی میں گرنے والی عمارت سے 14 لاشیں برآمد، ریسکیو آپریشن دوسرے روز بھی جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں گزشتہ روز گرنے والی پانچ منزلہ عمارت کے ملبے سے 14 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں، جبکہ ریسکیو ٹیموں کو خدشہ ہے کہ ابھی بھی 6 سے 7 افراد ملبے تلے دبے ہوسکتے ہیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق گزشتہ 20 گھنٹوں سے جاری امدادی سرگرمیوں میں مزید 8 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ تنگ گلیوں اور محدود جگہ کے باعث ہیوی مشینری کی رسائی میں مشکلات درپیش ہیں، تاہم ریسکیو اہلکار اور مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والے تین افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق عمارت گرنے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔ مذکورہ عمارت پانچ منزلوں پر مشتمل تھی اور اس کی چھت پر ایک پینٹ ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا تھا، جس نے وزن میں اضافے کا خدشہ بڑھا دیا تھا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ عمارت پہلے ہی خستہ حالی کا شکار تھی اور اس کی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی تھیں، تاہم اس کے باوجود کسی قسم کی مرمت یا احتیاطی اقدامات نہیں کیے گئے۔
حکام نے ملبے تلے دبے مزید افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ علاقے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان