حماس جنگ بندی مذاکرات پر تیار، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 18 افراد شہید
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
غزہ میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب سے جاری اسرائیلی حملوں میں کم از کم 18 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ فلسطینی اطلاعاتی مراکز کے مطابق یہ ہلاکتیں مختلف علاقوں میں بمباری کے نتیجے میں ہوئیں۔ اس سے قبل جمعرات کو بھی 50 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں: حماس غزہ میں جنگ بندی کے لیے کس بات کی ضمانت مانگ رہی ہے؟
دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے فوری مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ اسلامی جہاد نے بھی مشروط حمایت کا اظہار کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی کی ضمانت مانگی ہے۔ یہ پیش رفت اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے آئندہ پیر کو واشنگٹن کے دورے سے قبل سامنے آئی ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل 60 روزہ جنگ بندی پر آمادہ، حماس معاہدہ قبول کرے: ٹرمپ
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق 21 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک 57 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں 1,139 افراد ہلاک اور 200 سے زائد یرغمال بنائے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ٹرمپ جنگ بندی حماس غزہ فلسطین نیتن یاہو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا فلسطین نیتن یاہو کے لیے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔