Express News:
2026-07-24@07:10:04 GMT

غزہ کے اسرائیل نواز غنڈے

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

شاید آپ کو یاد ہو کہ لگ بھگ ڈیڑھ ماہ قبل غزہ شہر اور خان یونس میں اچانک حماس مخالف جلوس نکلے۔ان میں شامل چند سو افراد غزہ کے موجودہ مصائب کا ذمے دار حماس کو قرار دے رہے تھے۔ان جلوسوں میں متعدد مقامی مسلح باشندے بھی تھے۔ جب کہ اسرائیلی فوجی دستے کچھ ہی فاصلے سے یہ خلافِ معمول تماشا اطمینان سے دیکھ رہے تھے۔

اس ’’ تماشے ‘‘ کے چند روز بعد وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں ان اخباری اطلاعات کی تصدیق کی گئی کہ اسرائیلی حکومت غزہ میں حماس مخالف گروہوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔

 نیتن یاہو نے اپنے ایک وڈیو بیان میں کہا کہ ’’ ہم سیکیورٹی حکام سے مشاورت کے بعد غزہ میں حماس مخالف گروہوں کو اسلحہ دے رہے ہیں۔اس میں غلط کیا ہے ؟ بلکہ اس حکمتِ عملی سے اسرائیلی فوجیوں کی جانیں بچانے میں مدد مل رہی ہے۔مگر اس حکمتِ عملی کی منفی تشہیر کرنے والے دراصل حماس کی پروپیگنڈہ مدد کر رہے ہیں ‘‘۔

نیتن یاہو کا اشارہ سابق وزیر ِدفاع ایوگیدور لبرمین کی جانب تھا جن کا دعویٰ ہے کہ رفاہ شہر میں ’’ پاپولر فورس ملیشیا ‘‘ نامی ایک جرائم پیشہ گروہ جس کی سربراہی یاسر ابو شباب نامی ایک پینتیس سالہ شخص کر رہا ہے۔اسے اسرائیلی ادارے اسلحہ دے رہے ہیں۔اس گروہ میں سو کے لگ بھگ مسلح لوگ ہیں۔

بقول لبرمین شباب گروپ جنگ سے قبل نہ صرف سرحد پار مصر سے غزہ میں منشیات ، اسلحہ اور اشیائے خورونوش اسمگل کرتا رہا ہے بلکہ جنگ کے بعد امدادی ٹرکوں اور خوراک کے گوداموں کی لوٹ مار میں بھی ملوث ہے۔یہ کھلا راز اسرائیلی اداروں سے بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں تک ہر متعلقہ فریق کے علم میں ہے۔ اسرائیلی فوج کے کنٹرول والے علاقوں میں ابو شباب اور اس کے گروہ کی سرگرمیاں سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہیں۔

ایک وڈیو میں یاسر ابو شباب رفاہ کے کچھ لٹے پٹے لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ ’’ آپ اپنے گھروں میں واپس آ جائیں۔ہم آپ کو تحفظ بھی دیں گے اور ادویات و خوراک بھی پہنچائیں گے ‘‘۔

ان وڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد یاسر ابو شباب کے ترابین قبیلے اور کنبے نے اس سے اعلانِ لاتعلقی کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی خفیہ اداروں کے ساتھ یاسر کے تعاون کی خبریں سننے کے بعد ہمارا اس سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔نہ ہی اس کے انجام کی پرواہ ہے۔اس کی ہلاکت کی صورت میں ہم کسی پر خوں بہا کا دعویٰ نہیں کریں گے۔

حماس نے یاسر ابو شباب کو دس دن کا الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ یا تو حماس کی قائم کردہ عدالت میں پیش ہو جائے ورنہ اپنی سلامتی کا خود زمہ دار ہوگا۔

مقبوضہ فلسطین میں انسانی امداد سے متعلق اقوامِ متحدہ کے رابطہ کار جوناتھن وٹھال کا کہنا ہے کہ غزہ کے جرائم پیشہ گروہ اسرائیلی فوج کے زیرِ انتظام سرحدی کراسنگ کارم شلوم سے گذرنے والے امدادی ٹرکوں کے اغوا اور لوٹ مار میں ملوث ہیں اور وہ یہ امداد غزہ کے مصیبت زدگان کو من مانی قیمت پر فراہم کرتے ہیں۔حالانکہ یہ امداد مستحقین کے لیے مفت ہے۔یہ واردات گزشتہ ایک برس سے ہو رہی ہے۔

اسرائیل حماس مخالف گروہوں کی کیوں مدد کر رہا ہے ؟ کچھ اسرائیلی عسکری ماہرین کے بقول حکمتِ عملی یہ ہے کہ یا تو اسرائیل پورے غزہ کو براہِ راست اپنے فوجی انتظام میں رکھے یا پھر حماس کو ختم کر کے مشترکہ انتظام مصر اور معاہدہِ براہیمی میں شامل متحدہ عرب امارات کو سونپ دے یا پھر بتدریج محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دے اور اتھارٹی اسرائیل نواز مقامی گروہوں کی مدد سے نظام چلائے ۔کیونکہ اسرائیل کو براہ راست طویل المیعاد فوجی قبضہ عسکری اور سفارتی اعتبار سے مہنگا پڑ سکتا ہے۔

 فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کے عام لوگوں کی اکثریت ناپسند کرتی ہے لہٰذا اسرائیل کی کوشش ہے کہ متوازی مقامی گروہوں کو اتنا منظم و مسلح کردیا جائے کہ وہ حماس کو بھی غزہ سے دور رکھیں اور اسرائیلی کی مٹھی میں بھی رہیں۔

ان مبصرین کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے بیشتر علاقے سے حماس کا انتظامی کنٹرول ختم کر دیا ہے۔اس خلا کو جرائم پیشہ گروہ پر کر رہے ہیں۔ ماضی میں حماس ان گروہوں سے سختی سے نمٹتی رہی ہے اور بہت سے مخبروں کو ہلاک بھی کیا گیا ہے۔ تاہم اب ان گروہوں کو خود کو نمایاں اور موثر ہونے کا موقع نظر آ رہا ہے۔

حماس مخالف گروہوں میں رفاہ کے ترابین قبیلے اور ابو رشا خاندان کے علاوہ غزہ شہر اور آس پاس دغماش خاندان نمایاں ہے۔دغماش خاندان کے سربراہ کو اسرائیل سے روابط کے الزام میں گزشتہ برس ہلاک کر دیا گیا۔غزہ شہر میں الکشق خاندان کی بھی حماس سے لگتی ہے اور اسرائیلیوں سے بھی اس کے جزوقتی روابط بتائے جاتے ہیں۔خان یونس کے علاقے میں ابو طیر برادری کی وجہ شہرت اسمگلنگ ہے۔وہاں کا شاوش خاندان بھی دیگر گروہوں کے ساتھ مل کے دھندہ کرتا ہے۔جب کہ غزہ شہر کے مضافات میں برکا خاندان کا شمار فلسطینی اتھارٹی کے حامیوں میں ہوتا ہے لہٰذا حماس سے اس کی بھی نہیں بنتی۔

اسرائیل کی طویل المیعاد غزہ حکمتِ عملی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے سبب ( جس کی اسے کبھی بھی پرواہ نہیں رہی ) غزہ سے فوجی قبضہ ڈھیلا کرنا بھی پڑ جائے اور حماس دوبارہ سے غزہ کی پٹی پر اپنا کنٹرول بحال کرنے کی کوشش کرے تو خانہ جنگی کی کیفیت برقرار رہے۔اسرائیل کی یہ حکمتِ عملی نئی نہیں ہے۔

جب پینتیس برس پہلے تک اسے یاسرعرفات کی تنظیم الفتح سب سے بڑی دھشت گرد تنظیم نظر آتی تھی تو اس نے غزہ میں حماس کے قدم جمنے سے کوئی تعرض نہیں کیا تاکہ فلسطینی آپس میں ہی نظریاتی اعتبار سے گتھم گتھا رہیں۔جب اسرائیل کا وجود تسلیم کرنے کی شرط پر انیس سو چورانوے میں فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا اور اتھارٹی کو عارضی طور پر دو ریاستی حل کا لالی پاپ تھما دیا گیا تو اسرائیل کو حماس کی شکل میں سب سے بڑا حریف دکھائی دیا جس نے فلسطینی اتھارٹی کے برعکس اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔

اب حماس کو غزہ سے باہر رکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ اس کے مقامی حریفوں کے سر پر ہاتھ رکھا جائے اور ان میں سے بھی اگر کوئی آگے چل کے ذرا سا بھی سر اٹھائے تو کچل دیا جائے۔یہ وہ مجرب خاندانی نسخہ ہے جو سامراجی حکیم صدیوں سے برتتے آ رہے ہیں۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے  bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فلسطینی اتھارٹی یاسر ابو شباب گروہوں کو فلسطینی ا رہے ہیں حماس کو رہا ہے غزہ کے رہی ہے کے بعد

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم