Jasarat News:
2026-06-03@04:26:37 GMT

اکھنڈ بھارت اور گریٹر اسرائیل

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آج فلسطین کے اندر یہودیوں نے ظلم و درندگی کے پہاڑ توڑ دیے ہیں اور اس پر وہ بالکل بھی نادم نہیں ہیں۔ اگر یہودیت کے مذہبی عقاید کو دیکھا جائے تو وہ یہ خواب سجائے بیٹھے ہیں کہ دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کا علاقہ یہودیت کی میراث ہے۔ اپنے اس بیانیے کا وہ علی الاعلان پرچار اسرائیل کے پرچم میں کندہ دو نیلی لکیروں سے اظہار کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ نیلا رنگ پانی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسرائیل جن علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اُن میں دریائے نیل تک مصر، پورا اردن، پورا شام، پورا لبنان، عراق کا بڑا حصہ، ترکی کا جنوبی علاقہ اور مدینہ منورہ تک حجاز کا پورا بالائی علاقہ شامل ہے۔ بقول ان کے مذہبی پیشوائوں کے ان کی مقدس کتابوں میں مذکور ہے کہ اس وجہ سے اس دن خداوند نے ایک وعدہ کر کے ابرام سے ایک معاہدہ کر لیا۔ اور خداوند نے اس سے کہا کہ میں تیری نسل کو یہ ملک دوں گا۔ میں انکو دریائے مصر سے دریائے فرات تک کے علاقے کو دوں گا۔
ایک طرف تو اسرائیل میں متشدد یہودی گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھ رہے ہیں تو دوسری طرف ہندوتوا کے پرچار کرنے والے انڈیا میں موجود نئی پارلیمنٹ کے اندر ایک تصویر سجائے اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ کے اندر بھی گریٹر اسرائیل کا نقشہ یہودیوں نے سجایا ہوا ہے اور انڈیا کی نئی پارلیمنٹ بھی اسی طرح کے ایک نئے ذہنی فطور میں مبتلا ہے۔ اکھنڈ بھارت میں ہمارا شریر ہمسایہ ایک دیوانے کا خواب ذہن کے دریچوں میں سجائے ہوئے ہے۔ انڈین پارلیمنٹ کی عمارت میں دیوار پر لگا نقشہ جس میں پاکستان، بنگلا دیش، سری لنکا اور نیپال کو انڈیا میں ضم کر کے دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح انڈیا کو مغرب میں افغانستان، مالدیپ اور بھوٹان سمیت قریبی ممالک میں پھیلا دکھایا گیا ہے۔ ایک طرف گریٹر اسرائیل تو دوسری طرف گریٹر انڈیا۔ نریندر مودی جسے گجرات کا قصاب بھی کہا جاتا ہے اس کی قیادت میں 9.

7 ارب انڈین روپوں کی لاگت سے تیار کی گئی اسعمارت میں ان لوگوں کے لیے ایک سوالیہ نشان موجود ہے جن کا دعویٰ ہے کہ اب ہمیں امن کی آشا کو فروغ دینا ہو گا ہمیں پڑوسیوں کے ساتھ امن و آشتی کے ساتھ رہنا ہو گا اس میں ہماری بقا ہے۔
ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ جب اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینینٹ یہ کہتا ہے کہ ہم انڈیا سے پیار کرتے ہیں اور انڈیا ہمارا سب سے بڑا دوست ہے۔ آپ یہودو مشرکین کا گٹھ جوڑ دیکھیے اسرائیل حماس جنگ میں اسرائیل نے پناہ گزین کیمپس کے اوپر جو بمباری کی ان میں جو ہم استعمال ہوئے ان پر میڈ اِن انڈیا کی تحریر لکھی پائی گئی۔ یہ رپورٹ الجزیرہ انگلش میں ایک صحافی فیڈریکا ماری کے نام سے شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کے مطابق ایک جہاز Danica Marianne انڈیا کی بندر گاہ سے 27 ٹن دھماکا خیز مواد لے کے اسرائیل کی طرف گامزن ہوا، جبکہ ایک اور جہاز جس کا مبینہ نام Borkum بتایا گیا، انڈیا سے اسرائیل کی طرف 20 من راکٹ انجن، 12.5 ٹن بارودی راکٹ 1500 کلو آتش گیر مواد اور مختلف اقسام کے بارودی مواد لے کر اسرائیل کی طرف گامزن ہوا اور یہ رپورٹ جون 2024 کو شائع کی گئی۔
اب ذرا اندازہ کیجیے کہ ہندو بنیے نے ایک فالس فلیگ پہل گام حملہ کو جواز بنا کر پاکستان میں جو ڈرون بھیجے وہ بھی میڈ اِن اسرائیل تھے۔ ان ڈرون کا نام ہاروپ اور ہیرون مارک 2 تھا۔ پاکستان نے تقریباً 80 کے قریب اسرائیلی ساختہ ڈرون گرائے جو انڈیا نے پاکستان میں بھیجے۔ گجرات کا قصاب نریندر مودی وہ پہلا ہندوستانی وزیر اعظم ہے جس نے اسرائیل کا باضابطہ دورہ کیا، انڈیا کے روابط اسرائیل سے پہلے بھی تھے لیکن 1992
میں یہ مزید مضبوط ہونا شروع ہو گئے۔ اس سے پہلے ہندو بنیے پر عرب ممالک کا ایک پریشر تھا کہ ہندوستانیوں کی ایک کثیر تعداد عرب ممالک میں نوکریوں سے وابستہ تھی لیکن رفتہ رفتہ یہ ڈر ختم ہونا شروع ہو گیا۔ گزشتہ دنوں جب انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسرائیل وہ واحد ملک تھا جس نے کھل کر انڈیا کی حمایت کی۔ اندازہ لگائیں کہ پہل گام میں 22 اپریل کو ہونے والے فالس فلیگ حملے کے 2 دن بعد نیتن یاہو گجرات کے قصاب کو فون کر کے کہتا ہے کہ مجرموں کو قرار واقعی سزا ملنے چاہیے۔ بعض مبصرین کے مطابق انڈیا کا پاکستان پر حملہ بین الاقوامی برادری کی توجہ فلسطین سے ہٹانے کے لیے کیا گیا اور یہ اسرائیل اور انڈیا کی مشترکہ منصوبہ بندی تھی۔ کیونکہ عالمی سطح پر اسرائیل کی سفاکیت اور درندگی کے خلاف آوازیں شدت اختیار کر چکی تھیں۔ اور اسرائیل کے اندر سے بھی نیتن یاہو کے خلاف شدید قسم کا رد عمل ظاہر کیا جارہا تھا اور اسرائیل کی منصوبہ بندی میں یہ چیز شامل تھی کہ جب دو ایٹمی ریاستیں آپس میں ٹکرائیں گی تو دُنیا اُدھر متوجہ ہو جائے گی اور اسرائیل پہلے سے زیادہ شد و دمد کے ساتھ غزہ کے معصوم بچوں، عورتوں، بوڑھوں، پناہ گزین کیمپوں اور اسپتالوں پہ بمباری کر کے اپنے ناجائز ریاست کی راہیں ہموار کر لے گا۔ لیکن مشیت ایزدی میں شاید کچھ اور ہی لکھا تھا۔ انڈیا کا یہ حملہ پاکستان کی بہادر افواج نے تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ یاد رکھے جانا والا آپریشن بنیان مرصوص کر کے دشمن کے چھکے چھڑا دیے اور ایک عظیم فتح حاصل کی جو انڈیا کی نسلیں تک یاد رکھیں گی۔
آج 26 سے 36 ہزار ہندوستانی اسرائیل میں جاری جنگ کے باوجود اسرائیل میں موجود ہیں۔ مالی سال 2022 سے 23 میں انڈیا اور اسرائیل کی تجارت کا حجم 8.45 ارب امریکی ڈالر تھا۔ اسی طرح 2023 اور 24 میں تجارت کا یہ حجم 63.53 ارب امریکی ڈالر رہا جس میں دفاعی ساز و سامان شامل نہیں ہے۔
اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان نے کہا تھا کہ عالمی صہیونی تنظیم کو پاکستان جیسے خطر ناک ملک کو کسی صورت بھولنا نہیں چاہیے۔ پاکستان یہودیوں کا پہلا نشانہ ہونا چاہے کیونکہ یہ یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور عربوں سے محبت۔ اور ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کے دلوں میں پاکستانیوں کے لیے شدید نفرت بھری ہے۔ لہٰذا ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور پاکستان جیسے ملک کو ختم کرنے کے لیے ہندوستان کو بیس یعنی بنیاد بنانا چاہیے۔ (جیوش کرونیکل (1967)
قارئین یہود و مشرکین کی اسلام دشمنی اور موجودہ دور میں پاکستان دشمنی پر صفحات بھرے جاسکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان ایک واحد نیوکلیئر پاور ہے جو مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے اور اس کی افواج کا دُنیائے عالم میں ڈنکا بجتا ہے۔ آج دشمنان اسلام و دشمنان پاکستان بالخصوص پاکستان پر بری نظریں جمائیں ہوئے ہیں۔ اس کی واضح جھلک پہل گام کا ڈراما رچا کر پاکستان پر حملہ کرنا تھا اور جب تک دشمن کو ہم نے جواب نہیں دیا اور دشمن ہم پر حملہ کر تا رہا تو ڈونلڈ ٹرمپ اور ہم نوا فرماتے رہے کہ ہم اس معاملہ میں مداخلت نہیں کریں گے یہ دونوں ممالک کا اندرونی مسئلہ ہے۔ لیکن جو نہی پاکستان نے کاری ضرب لگائی تو انہیں ہوش آیا کہ جنگ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ ازل سے ہی مسلمان عددی لحاظ سے اور جنگی ساز و سامان کے لحاظ سے غیر مسلموں کے مقابلے میں کمتر رہے۔ لیکن بارہا ایسا ہوا کہ اللہ کے حکم سے ایک قلیل تعداد کثیر تعداد پہ بھاری رہی کیونکہ جب بات مادر وطن کے دفاع پہ آتی ہو تو بچہ، بوڑھا اور جو ان ایک ہی صف میں کھڑے ملتے ہیں۔ اور چاہے مشرک ہوں یا یہودی ان کے خلاف صف آرا و کمر بستہ رہتے ہیں۔
بقول علامہ اقبال
اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گریٹر اسرائیل اور اسرائیل اسرائیل کے اسرائیل کی پاکستان پر انڈیا کی کے اندر پر حملہ اور اس کے لیے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان