وزیراعظم سے آزاد رکن قومی اسمبلی چوہدری عثمان علی کی ملاقات، مسلم لیگ (ن) میں شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 142 ساہیوال 2 سے آزاد (پی ٹی آئی) حیثیت میں منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی چوہدری عثمان علی نے سوموار کو وزیراعظم آفس میں ملاقات کی۔
وزیراعظم نے چوہدری عثمان علی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران چوہدری عثمان علی نے حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کی کامیاب منظوری پر وزیراعظم کو مبارکباد پیش کی۔
مزید پڑھیں: آئینی ترمیم میں ووٹ دینے والے منحرف ارکان کون سے ہیں، ان کا کیا مستقبل ہوگا؟
ملاقات میں ساہیوال سے متعلق حلقہ جاتی امور، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
After the nomination papers of Chaudhry Asif Ali were rejected, his nephew Chaudhry Usman Ali is PTI’s nominated candidate from NA-142 Sahiwal-II.
Chaudhry Usman has strong support within the local community and PTI’s popularity, support from the younger generation, and Chaudhry… pic.twitter.com/5szD9Lkip9
— PTI USA Official (@PTIOfficialUSA) January 28, 2024
واضح رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں چوہدری عثمان علی نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 142 ساہیوال 2 سے آزاد حیثیت میں 1 لاکھ 7 ہزار 496 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محمد اشرف 96 ہزار 125 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد (پی ٹی آئی) ساہیوال 2 قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 142 وزیراعظم محمد شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آزاد پی ٹی ا ئی ساہیوال 2 قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 142 وزیراعظم محمد شہباز شریف چوہدری عثمان علی قومی اسمبلی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔