وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر پاکستان ریلوے نے عوام کی خدمت کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرلیا ہے۔ اب لگژری سیلون جو کبھی صرف وزیراعظم کے لیے مخصوص تھا، عوام کے لیے دستیاب ہوگا۔

وزیراعظم لگژری سیلون میں ہر وہ سہولت موجود ہے جس کی اب تک عوام صرف خواہش ہی کرسکتے تھے۔ 2 بیڈ رومز، اٹیچ باتھ رومز،  ایل ای ڈی ٹی وی ، فریج، اوون، گیزر، مکمل کچن، ڈائننگ ٹیبل، سپلٹ اے سی، ٹی وی لاؤنج اور ٹیلی فون ایکسچینج بھی ہوگی۔

اس فیصلے سے قبل یہ ایک ایسا سفر تھا جو عام لوگوں کو صرف خواب لگتا تھا، لیکن اب وہ حقیقت بن چکا ہے۔ واضح رہے کہ پرائم منسٹر سیلون میں 10 افراد کے سونے کی جگہ بھی ہے اور یہ سیلون بلٹ پروف ہے۔

وزیراعظم لگژری سیلون میں کراچی سے لاہور  تک سفر کا کرایہ 6 لاکھ روپے ہوگا جبکہ اسلام آباد سے لاہور تک سفر کرنے کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے ہوگی۔

واضح رہے کہ صرف وزیراعظم کا سیلون ہی نہیں بلکہ وزیر ریلوے نے بھی اپنا سیلون عوام کے نام کردیا ہے۔ جس میں ایک بیڈ روم کے ساتھ تمام سہولیات وزیراعظم سیلون والی ہوں گی لیکن کرایہ اس سے کئی گنا کم ہوگا۔کراچی سے لاہور تک کرایہ 4 لاکھ روپے جبکہ اسلام آباد سے لاہور تک ایک لاکھ روپے ہوگا۔

عام مسافر اسی ریٹ پر چیئرمین ریلوے، سی ای او ریلوے اور آئی جی ریلوے کے سیلونز بھی بک کروا سکتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ان تمام سیلونز میں ایک اٹینڈنٹ ہمہ وقت موجود ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان ریلوے وزیراعظم لگژری سیلون.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان ریلوے وزیراعظم لگژری سیلون لاکھ روپے سے لاہور کے لیے

پڑھیں:

جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی

کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار کی منظوری دے دی۔ کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد انہیں بھی بند کرنا ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، جمز اور فیول اسٹیشنز پر ان اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور وہ حسبِ معمول کام جاری رکھ سکیں گے۔ وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی کی بچت کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  • توانائی بچت مہم، وزیراعظم نے کاروباری اوقات کار کی منظوری دیدی
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد