Express News:
2026-06-03@07:34:43 GMT

’’ اردو شاعرات کا مزاحمتی لحن‘‘ ایک جائزہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

ڈاکٹر قرۃ العین طارق کا نام تحقیق و تنقید کے اعتبار سے اردو ادب کی تاریخ میں معتبر اور اہمیت کا حامل ہے، ’’اردو شاعرات کا مزاحمتی لحن‘‘ یہ ان کی تیسری کتاب ہے،  اس سے قبل وہ تنقیدی بصیرت اور فہم و فراست کی روشنی میں دو کتابیں اور لکھ چکی ہیں۔

ایک کتاب ’’جن سے تیری بزم میں تھے ہنگامے بہت‘‘ ممتاز شاعر و دانشور عزیز حامد مدنی کے فن و شخصیت کا احاطہ کرتی ہے جب کہ دوسری کتاب ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’اردو ادب میں دہشت گردی کی ارتقائی عکاسی کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘‘ ہے۔ قرۃ العین نے موضوع کے اعتبار سے بہترین محقق کا کردار ادا کیا ہے، ان کی ادب سے لگن، محنت اورکوشش نے ان کے کام کو توقیر اور اعتبار بخشا ہے، وہ ادب کی تاریخ کا مکمل جائزہ اس طرح پیش کرتی ہیں کہ فکشن نگاری کے قالب میں ڈھالے گئے، وہ کردار جو ظلم اور جبر و قہر کا شکار ہوئے، ایسے کرداروں کو قارئین و ناقدین کے سامنے لانے میں انھوں نے تاریخ کے ان صفحات کو نمایاں کیا ہے جہاں عشق و محبت کی داستانیں رقم نہیں کی گئی ہیں بلکہ سیاسی و معاشرتی طور پر قتل ہونے والے ان لوگوں کی عکاسی کی ہے جو ناانصافی کا شکار ہوئے اور انھیں ان کے ہی خون میں نہلایا گیا۔

مذکورہ کتاب جس پر میں خامہ فرسائی کرنے بیٹھی ہوں ’’ اردو شاعری کا مزاحمتی لحن‘‘ قرۃ العین طارق نے اس وقت کی ان شاعرات اور ان کی شاعری کا فنی جائزہ لیا ہے جب خواتین کا شعر و سخن میں طبع آزمائی کرنا اور اخبار و رسائل میں چھپنا شجر ممنوع سے کم نہیں تھا۔ وہ اکثر مردانہ ناموں سے اپنی تخلیقات کی نقاب کشائی اشاعت کی شکل میں کرتیں اور یہ بڑا مشکل مرحلہ تھا جو انھوں نے طے کیا۔ ناقد نے ابتدا سے عصر حاضر تک کی شاعری پر روشنی ڈالی ہے۔ 

یہ کام آسان ہرگز نہیں تھا، بہت محنت طلب،  ویسے بھی تنقید ایک بھاری پتھر کی مانند ہے جس کو بہت سے قلم کار اٹھا تو لیتے ہیں لیکن تکمیل کی صورت میں تنقیدی و تحقیقی تحریریں سامنے نہیں آ پاتی ہیں، بس چوما اور رکھ دیا، اس کے برعکس مصنفہ نے اپنی دونوں کتابوں کی طرح مکمل اور بھرپور طریقے سے تحریری فریضہ انجام دیا ہے۔ کتاب پر محمود شام کا عالمانہ اور فصیح و بلیغ مضمون درج ہے، ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی اور حمیدہ شاہین  نے بھی اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا ہے۔263 صفحات پر مشتمل کتاب الحمد پبلی کیشنز لاہور سے شایع ہوئی ہے، سرورق دیدہ زیب اور اشاعتی غلطیاں دور دور تک نظر نہیں آتی ہیں۔

باب اول میں ابتدا سے 1947 تک کی شاعرات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ تحقیقی کام کی تکمیل آسان ہرگز نہیں ہوتی ہے۔ موضوع کوئی بھی ہو تاریخ کو کھنگالنا پڑتا ہے، تب کہیں گوہر مقصود ہاتھ لگتا ہے، ہیرے اور موتیوں کی کان آگہی کی روشنی میں نمایاں ہوجاتی ہے اور لفظوں کی قندیل جگ مگ کرتی ہے۔ ناقد کی حیثیت ایک جوہری کی سی ہوتی ہے کہ وہ پرکھے کس کا کام موتیوں سے مشابہت رکھتا ہے اور سونے چاندی کے ڈھیر میں کتنے ذرے اپنی آب و تاب دکھا رہے ہیں  ان کا کوئی خریدار نہیں، لیکن مخلص و دیانت دار مبصر و مدبر اور وسیع النظر قلم کار ان ہیرے موتیوں کو ادب کے ٹھیکیداروں سے بچا کر اپنی تحریروں کی زینت بنا لیتا ہیں، کم ظرف اور تنگ نظر، جھوٹے، خوشامد پسند ناقدین کی عزت پر داغ لگ جاتا ہے اور حق کا خوب بول بالا ہوتا ہے۔

تو میں عرض یہ کر رہی ہوں کہ قرۃ العین کا شمار ایسے ہی اعلیٰ ظرف ناقدین میں ہوتا ہے۔ انھوں نے بلاتعصب ان شاعرات کے مزاحمتی لحن کا ادراک کرتے ہوئے قلم اٹھایا ہے۔

ایسی ہی کاوش پر نقاد اور ادب کا قاری داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر قرۃ العین نے مزاحمتی شاعرات کے نام اورکام کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے ’’اردو شاعرات کے کلام میں ’’ مزاحمتی لحن‘‘ کی ابتدا شاید اسی وقت ہو گئی تھی جب پہلی شاعرہ نے اپنی صنفی محکومی اور معاشرتی مجبوریوں کو بیان کیا تھا، اس وقت وہ برملا اس کا اظہار نہ کرسکی، لیکن اس کے فہم و ادراک میں مزاحمتی رویے پروان چڑھتے رہے،کبھی چھپے لفظوں کی صورت میں نمایاں ہوئے تو کبھی مردانہ لب و لہجے میں اپنے ردعمل کو ظاہرکیا۔

اس ضمن میں دکن اور شمالی ہند میں شعرا کا تو ذکر ملتا ہے لیکن شاعرات کا نہیں۔ پہلی مرتبہ مولوی کریم الدین پانی پتی نے تذکرہ گلدستہ ناز نیناں 1845 میں شایع کیا جس میں دس شاعرات کا کلام شامل تھا، وہ بھی انتخاب کی شکل میں۔ حکیم فصیح الدین رنج میرٹھی کا ’’ بہارستان ناز‘‘ اس کے طبع دوم اشاعت 1869 میں شاعرات اور طبع سوم 1882 میں 174 شاعرات کا کلام موجود ہے۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے مطابق ’’بہارستان ناز‘‘ میں بیش تر شاعرات طبقہ طوائف سے تعلق رکھتی ہیں۔ اکثر شریف زادیوں نے بھی شعر و سخن میں اپنا رنگ جمایا ہے، اور ناانصافی، ستم ظریفی کا نقشہ موثرانداز میں کھینچا ہے۔

قرۃ العین نے اس زمانے کی شاعرات کی شاعری کے نمونے بھی درج کیے ہیں۔ بادشاہ بیگم کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیے:

لے اڑی طرز فغاں بلبل نالاں ہم سے

گل نے سیکھی روش چاک گریباں ہم سے

انھوں نے ماحول اور ان حالات سے پیدا ہونے والے مسائل کا بھرپور طریقے سے جائزہ لیا ہے کہ جبر و قہر اور ناانصافی کی فضا نے کس طرح شاعرات کو متاثر کیا تھا۔ نظم ’’پیش لفظ‘‘ میں ادا جعفری نے اس ستم گری کا نقشہ پیش کیا ہے جو خواتین کو درپیش تھے۔

شفیق فاطمہ نے عورتوں کے دکھوں اور محرومیوں کا ذکر اپنی شاعری میں ایک المیے کی طرح بیان کیا ہے۔

گیلی سلکتی لکڑی عورت

سیل زماں میں مدغم ہو گئی

خیر ہو یا رب دشت و دمن کی

آنکھ جنوں کی پرنم ہو گئی

1980 تا عصر حاضر۔ اس کتاب کا تیسرا باب ہے ، قرۃ العین نے 1977 کے مارشل لا کا ذکر نہایت کرب اور دکھ کے احساس سے کیا ہے، کہ  گزرے زمانوں میں عورت نے قید و بند کی صعوبتیں کس طرح برداشت کیں۔

بے بس و معصوم انسانوں پر ہونے والے مظالم کو شاعری کے قالب میں ڈھالا ہے۔ اس دور میں ادا جعفری، فہمیدہ ریاض، شفیق فاطمہ، سیدہ فرحت، وحیدہ نسیم، پروین شاکر اور فاطمہ حسن کے کلام کی وہ جھلکیاں دکھائی ہیں جب شاعرات نے آپ بیتی اور جگ بیتی کو لفظوں کی قندیل عطا کی۔ مثال کے طور پر۔

میں اپنے حق کے واسطے تنہا کھڑی رہی

میزان عدل پر مجھے تولا نہیں گیا

غیرت کے نام پہ کبھی حرمت کے نام پر

بکتی رہی زمانے میں بکنا نہیں گیا

ادا جعفری ترقی پسند شعرا میں ممتاز حیثیت رکھتی ہیں، ان کی شاعری میں نسائی جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔ قرۃ العین ان کے بارے میں لکھتی ہیں ’’ ادا جعفری کی شاعری کا آغاز ایسے دور میں ہوا جو قومی و بین الاقوامی سطحوں پر انتشار و سیاسی تغیرات کا دور تھا، ایک طرف آزادی کی تحریک عروج پر تھی اور دوسری طرف برطانوی اقتدار سے نجات پانے کی آخری جنگ جاری تھی۔ ان حالات میں ادا جعفری کے طرز سخن میں مزاحمت کی لے ابھری۔ نظم ’’ پیش لفظ‘‘ میں ادا جعفری نے برملا ان رجحانات کی ترجمانی کی ہے، مثال کے طور پر یہ اشعار:

انھیں روندی ہوئی ٹھکرائی ہوئی راہوں میں

کتنی نوخیز امیدوں کے سجیلے سپنے

کتنی معصوم امیدوں کے سجیلے سپنے

چند دانوں کے عوض بکتے رہے بکتے رہے

بربریت کے ستم سہتے رہے سہتے رہے

زندگی میرے لیے خواب نہ تھی، گیت نہ تھی

ہماری دعا ہے قرۃ العین کا قلم اندھیروں سے تخلیق کی روشنی کشید کرتا رہے، مبارکاں!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قرۃ العین نے مزاحمتی لحن شاعرات کا انھوں نے کی شاعری کیا ہے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ