data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیرالہ: بھارتی ریاست کیرالہ کے تھرواننتھا پورم ائیرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنے والا جدید ترین ایف-35 بی اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ اب تک گراؤنڈ ہے، اور بھارتی و برطانوی حکام اس کی برطانیہ واپسی کے لیے غیر معمولی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ طیارہ 14 جون کو خراب موسم اور ایندھن کی کمی کے باعث ہنگامی طور پر لینڈ کیا گیا۔ یہ طیارہ برطانوی بحری بیڑے ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز کیریئر اسٹرائیک گروپ کا حصہ تھا۔ لینڈنگ کے بعد بھارتی فضائیہ نے نہ صرف محفوظ لینڈنگ میں مدد دی بلکہ ایندھن اور لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کی۔

طیارے کی واپسی کی تیاری کے دوران اس میں ہائیڈرولک سسٹم کی خرابی کا انکشاف ہوا۔ متعدد کوششوں کے باوجود یہ خرابی دور نہ کی جا سکی، جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ سے متوقع 30 رکنی انجینئرنگ ٹیم اب تک بھارت نہیں پہنچ سکی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایف-35 طیارہ اب تھرواننتھا پورم ایئرپورٹ پر سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس کی نگرانی میں موجود ہے۔ پہلے مرحلے میں برطانوی نیوی نے طیارے کو ہینگر میں منتقل کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا، تاہم شدید مون سون بارشوں کے پیش نظر اب اس فیصلے پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق برطانوی حکام اب طیارے کو مکمل طور پر کھول کر ایک فوجی کارگو طیارے کے ذریعے واپس برطانیہ منتقل کرنے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔ اس عمل میں غیر معمولی احتیاط، تکنیکی مہارت اور سیکیورٹی درکار ہوگی، کیونکہ ایف-35 دنیا کے مہنگے ترین اور حساس دفاعی طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف تکنیکی اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے بلکہ عالمی دفاعی سفارت کاری اور دو طرفہ تعاون کے پہلو سے بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا