موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، برطانیہ میں موسم شدید گرم، 600 افراد ہلاک،مزید ہلاکتوں کا خدشہ، الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
لندن (اوصاف نیوز)برطانوی حکومتی اعداد و شمار کے مطابق موجودہ گرمی کی لہر کی وجہ سے ویلز اور انگلینڈ میں تقریباً 6 سو افراد ہلاک ہوگئے۔
ہلاک ہونیوالوں کی عمریں 60 سال سے زائد ہیں، ہلاک ہونے والوں میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ برطانیہ میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث 2020 سے لیکر جون 2025 تک 10ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
رواں سال سب سے زیادہ گرمی لندن اور ویسٹ مڈلینڈ میں پڑی،محکمہ موسمیات کی طرف سے گرمی کی دوسری لہر کے بعد مزید گرمی پڑنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
صومالیہ میں ملٹری ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ 5 اہلکار ہلاک،3 زخمی
موجودہ گرمی کی لہر کے باعث برطانوی شہریوں نے دریا اور سمندر کے کناروں کا رخ کیا۔ سال 2020 میں درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا جس کی وجہ سے 3271 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
برطانوی حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ برطانیہ شدید موسمی تبدیلی کے زیر اثر ہے اور گرمی کی شدت برقرار رہی تو ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خطرہ ہے۔ دوسری جانب یورپ میں سب سے زیادہ گرمی پیرس میں 40 سینٹی گریڈ ریکارڈ کی گئی۔
کے پی حکومت کا تختہ الٹنے کی خبریں، وزیراعظم کی گورنر فیصل کریم اور ایمل ولی سے ملاقاتیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: افراد ہلاک گرمی کی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔