یورپ میں شدید گرمی اور ہیٹ ویوسے8افراد ہلاک،ہنگامی انتباہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیرس: یورپ کے بیشتر حصوں میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو سے آٹھ افراد ہلاک ہوگئے، صحت کے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے ہیں، جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی ہے اور سوئس پاور پلانٹ میں ایک جوہری ری ایکٹر بند کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یورپ کے بیشتر حصوں میں موسم گرما کی شدید گرمی کی لہر نے تباہی مچا رکھی ہے، جس کے نتیجے میں اسپین میں چار، فرانس میں دو اور اٹلی میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسپین میں حکام نے بتایا کہ ایک دن قبل کاتالونیا میں لگنے والی جنگل کی آگ سے دو افراد ہلاک ہوئے، اس کے علاوہ، ایکسٹریماڈورا اور کورڈوبا میں بھی گرمی کی لہر سے متعلقہ اموات کی اطلاع دی گئی ہے، فرانس کے وزیر توانائی نے بھی گرمی سے منسلک دو اموات کی تصدیق کی اور بتایا کہ 300 سے زائد افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
اٹلی نے اپنے 18 شہروں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ جرمنی کے کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این ایس اے (ANSA) کے مطابق، سارڈینیا کے ساحل پر گرمی کے باعث 60 سال سے زائد عمر کے دو افراد الگ الگ واقعات میں ہلاک ہوئے۔
موسمیاتی پیش گوئی کرنے والی کمپنی میٹیو فرانس نے بتایا کہ وسطی فرانس کے کئی علاقوں میں ریڈ الرٹ برقرار ہے، فرانس کی وزیر صحت و خاندانی امور، کیتھرین وٹرین نے خبردار کیا کہ آبادی کے کمزور طبقے کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں اور حکام کو چوکس رہنا چاہیے۔
ترکیہ، جس نے اس ہفتے کے شروع میں کئی محاذوں پر جنگلات کی آگ کا مقابلہ کیا تھا اور تقریباً 50 ہزار افراد کو عارضی طور پر نقل مکانی پر مجبور کیا تھا، نے اطلاع دی ہے کہ وہاں لگنے والی آگ پر بڑے پیمانے پر قابو پا لیا گیا ہے۔
اسپین کے کاتالونیا کے علاقے میں منگل کو لگنے والی آگ نے کئی فارموں کو تباہ اور تقریباً 40 کلومیٹر کے علاقے کو متاثر کیا، تاہم حکام نے بعد میں اس پر قابو پانے کا دعویٰ کیا تھا۔
اٹلی، فرانس اور جرمنی نے غیر مستحکم ماحول میں حد سے زیادہ گرمی کی وجہ سے شدید طوفانوں کے خطرے سے خبردار کیا ہے، پیر کی دیر رات فرانسیسی الپس میں شدید طوفان مٹی کے تودے گرنے کا باعث بنا، جس سے پیرس اور میلان کے درمیان ریل ٹریفک متاثر ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افراد ہلاک
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔