کیا آج جرمنی میں گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جولائی 2025ء) جرمنی کی کچھ علاقوں میں شدید گرمی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ ڈی ڈبلیو ڈی کے ایک ترجمان نے منگل کی شب بتایا کہ ابتدائی پیمائشوں کے مطابق منگل یکم جون کو اب تک سال کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کٹزنگن، باویریا میں ریکارڈ کیا گیا جو 37.8 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔
آج بدھ کے دن ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت 34 سے 38 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا جبکہ ملک کے جنوبی حصے میں اس سے بھی زیادہ گرمی پڑنے کا امکان ہے۔
ڈی ڈبلیو ڈی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا، ''اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہم مقامی طور پر 40 ڈگری تک پہنچ جائیں گے۔‘‘ مزید یہ کہ زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے بدھ کو بھی جنگلات میں آگ لگنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
(جاری ہے)
جمعرات کو تاہم درجہ حرارت میں کمی کی پشین گوئی ہے۔
'ریکارڈ ٹوٹنے کی توقع نہیں‘جرمنی میں اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 25 جولائی 2019 کو جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں ڈی ڈبلیو ڈی کے تونیس فارسٹ اور ڈوئسبرگ بیئرل کے موسمیاتی اسٹیشنوں میں ریکارڈ کیا گیا تھا جو 41.
خیال رہے کہ آج بدھ کو دوپہر تک، ملک کے جنوبی حصوں میں گرج چمک کی بھی توقع ہے، جو کہیں کہیں شدید بھی ہوسکتی ہے۔ دوپہر کے وقت شمال مغرب اور شمال کے کچھ حصوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ گرج چمک کے ساتھ بارش کا بھی امکان ہے۔
کچھ جگہوں پر موسلا دھار بارش، ژالہ باری اور طوفانی ہوائیں بھی آسکتی ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافہ، بچوں اور بزرگ افراد کے لیے نقصان دہماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو چھوٹے بچے اور بزرگ افراد خاص طور پر غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے لوگوں کی عمر بڑھتی ہے، ان کی جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت سست ہوجاتی ہے، اور ان میں پسینے کے غدود کم ہوتے جاتے ہیں، یعنی جسم کا قدرتی ٹھنڈک کا نظام کم مؤثر ہوتا ہے۔
نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں کو بھی پانی کی کمی کا خطرہ ہوتا ہے۔جرمنی کی فیڈرل انوائرمنٹ ایجنسی اور بیماریوں پر تحقیق کے ادارے رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2023 اور 2024 میں، ایک اندازے کے مطابق ہر سال گرمی سے متعلق وجوہات کی وجہ سے تقریباﹰ 3,000 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر 75 سال سے زائد عمر کے افراد تھے جو پہلے ہی ڈیمنشیا، دل کی بیماریوں، یا پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تھے۔
ادارت: رابعہ بگٹی
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈی ڈبلیو ڈی کے
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔