UrduPoint:
2026-06-03@05:22:18 GMT

کیا آج جرمنی میں گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

کیا آج جرمنی میں گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جولائی 2025ء) جرمنی کی کچھ علاقوں میں شدید گرمی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ ڈی ڈبلیو ڈی کے ایک ترجمان نے منگل کی شب بتایا کہ ابتدائی پیمائشوں کے مطابق منگل یکم جون کو اب تک سال کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کٹزنگن، باویریا میں ریکارڈ کیا گیا جو 37.8 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

آج بدھ کے دن ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت 34 سے 38 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا جبکہ ملک کے جنوبی حصے میں اس سے بھی زیادہ گرمی پڑنے کا امکان ہے۔

ڈی ڈبلیو ڈی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا، ''اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہم مقامی طور پر 40 ڈگری تک پہنچ جائیں گے۔‘‘ مزید یہ کہ زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے بدھ کو بھی جنگلات میں آگ لگنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

(جاری ہے)

جمعرات کو تاہم درجہ حرارت میں کمی کی پشین گوئی ہے۔

'ریکارڈ ٹوٹنے کی توقع نہیں‘

جرمنی میں اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 25 جولائی 2019 کو جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں ڈی ڈبلیو ڈی کے تونیس فارسٹ اور ڈوئسبرگ بیئرل کے موسمیاتی اسٹیشنوں میں ریکارڈ کیا گیا تھا جو 41.

2 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

تاہم ڈی ڈبلیو ڈی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پیش گوئیوں سے یہ اشارہ نہیں ملتا کہ بدھ کے روز یہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا: ''ہم فی الحال اس کی توقع نہیں کرتے ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ آج بدھ کو دوپہر تک، ملک کے جنوبی حصوں میں گرج چمک کی بھی توقع ہے، جو کہیں کہیں شدید بھی ہوسکتی ہے۔ دوپہر کے وقت شمال مغرب اور شمال کے کچھ حصوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ گرج چمک کے ساتھ بارش کا بھی امکان ہے۔

کچھ جگہوں پر موسلا دھار بارش، ژالہ باری اور طوفانی ہوائیں بھی آسکتی ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافہ، بچوں اور بزرگ افراد کے لیے نقصان دہ

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو چھوٹے بچے اور بزرگ افراد خاص طور پر غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے لوگوں کی عمر بڑھتی ہے، ان کی جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت سست ہوجاتی ہے، اور ان میں پسینے کے غدود کم ہوتے جاتے ہیں، یعنی جسم کا قدرتی ٹھنڈک کا نظام کم مؤثر ہوتا ہے۔

نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں کو بھی پانی کی کمی کا خطرہ ہوتا ہے۔

جرمنی کی فیڈرل انوائرمنٹ ایجنسی اور بیماریوں پر تحقیق کے ادارے رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2023 اور 2024 میں، ایک اندازے کے مطابق ہر سال گرمی سے متعلق وجوہات کی وجہ سے تقریباﹰ 3,000 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر 75 سال سے زائد عمر کے افراد تھے جو پہلے ہی ڈیمنشیا، دل کی بیماریوں، یا پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تھے۔


ادارت: رابعہ بگٹی

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈی ڈبلیو ڈی کے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی چینل  جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا، وفاقی بجٹ 8یا 12جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔

قومی اقتصادی کونسل کا 3جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔

یادرہے کہ اس سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ وفاقی بجٹ5جون کو پیش کیا جائے گا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر