Express News:
2026-07-24@08:11:02 GMT

ابراہیمی معاہدے کی گونج

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

 ابراہیمی معاہدہ ایک ایسی دستاویز ہے جسے ٹرمپ نے اپنی گزشتہ حکومت کے دور میں متعارف کروایا تھا۔ اس معاہدے کا نام پہلے صدی کی ڈیل رکھا گیا تھا، بعد میں اس کوکچھ تبدیلیوں کے ساتھ ابراھیمی معاہدے کا نام دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کا اصل مقصد دنیائے اسلام کے ممالک کو غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ بٹھانا اور تعلقات استوارکروانا ہے تاکہ فلسطین کا سوال ہی ختم ہوجائے۔

اس معاہدے کا آغاز پہلے متحدہ عرب امارات اور بحرین سے ہوا۔ اس کا باضابطہ ا ظہار اگست اور ستمبر 2020 میں کیا گیا اور 15 ستمبر 2020 کو واشنگٹن ڈی سی میں دستخط کر کے اعلان کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین اسرائیل کو تسلیم کر رہے ہیں۔ عرب امارات، عرب دنیا میں اردن کے بعد پہلا ملک بن گیا جس نے غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کو تسلیم کیا۔

اس کے بعد مراکش اور سوڈان نے بھی اسی ابراہیمی معاہدے کی رو سے امریکی حکومت کے ساتھ مل کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

ابراہیمی معاہدے کے لیے دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ تینوں بڑے ادیان کے ماننے والے یعنی مسلمان، مسیحی اور یہودی تینوں حضرت ابراہیم کا یکساں احترام کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم میں یہودیوں سے باربار یہی سوال پوچھا گیا ہے کہ ’’ تم یہودی کہاں سے اور کیسے بنے ہو؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سوال پوچھا کہ ’’ تم ابراہیم کو مانتے ہو لیکن ابراہیم تو یہودی نہیں تھے؟‘‘ یہودیوں سے پوچھا گیا کہ ’’جنھیں تم اپنا باپ داد مانتے ہو، وہ تو یہودی نہیں تھے؟‘‘ لیکن آج یہودیوں سے بڑھ کر یہودیوں کے وفادار مسلم ممالک میں موجود ہیں اور ایسی ہی سوچ کے حاملکچھ  افراد پاکستان میں بھی موجود ہیں۔

حقیقت میں امریکا نے یہ معاہدہ خطے میں فلسطین کے کازکو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے بنایا ہے اور ساتھ ساتھ عرب دنیا کو اسرائیل کے ساتھ کھڑا کر کے وہ خطے میں اسرائیل کے سب سے بڑے مخالف ایران کو تنہا کرنا چاہتا ہے، جب کہ اس معاہدے کا ظاہر مقصد جو دنیا کو دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان، عیسائی اور یہودی تینوں ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتے ہیں اور اس عنوان سے آپس میں تعاون ہونا چاہیے اور پھر اس تعاون کو سیکیورٹی، معاشی اور نہ جانے کون کون سے تعاون کے ساتھ جوڑکر پیش کیا جاتا ہے۔

حالیہ دنوں ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی 12روزہ جنگ کے بعد تل ابیب میں ایک بڑا بینر آویزاں کیا گیا ہے جس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تصویروں کے ساتھ  مسلمان حکمرانوں کی تصویریں آویزاں تھیں۔ اس تصویر سے واضح ہوتا ہے کہ ان سب حکمرانوں نے فلسطین بارے امریکی موقف کی حمایت کر دی ہے ۔

اس تسلسل میں  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیر برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ’’ جلد ایسے ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں گے جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘  یہ تصور نہ کیا جانے والا ملک کون ہوسکتا ہے ؟ حالات اور واقعات کچھ اس جانب اشارے تو دے رہے ہیں، 

حال ہی میں پاکستان  نے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو تبھی تسلیم کرے گا جب فلسطین کی آزاد ریاست جس کا دارالحکومت القدس ہوگا، حالانکہ اس معاملے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی وضع کردہ خارجہ پالیسی اور نظریہ کے اصولی موقف میں کسی جگہ ایسی بات موجود نہیں ہے کہ پاکستان کسی شرط کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرے گا، بلکہ قائد اعظم کی پالیسی کے مطابق پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے۔

کچھ پاکستانی وزرا ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے اشارے دے رہے ہیں اورکہہ رہے  ہیں کہ پاکستان کو اس میں اپنا مفاد دیکھنا ہے یعنی ایک شک اور شبہ ایجاد کردیا۔ یہاں بھی قائداعظم محمدعلی جناح کے نظریہ اور اصولوں کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

 ایک  حکومتی وزیر کہتے ہیں کہ پاکستان کو ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے عنوان سے عرب ممالک کے ساتھ جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ  ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ  فلسطین کے بارے میں اب کوئی سوال نہیں ہوگا، یعنی فلسطین کو فراموش کیا جائے گا۔ افسوس کی بات ہے کہ ستر ہزار سے زائد معصوم بچوں اور خواتین کا غزہ میں بہنے والا خون ابھی تک غزہ کی گلیوں میں خشک نہیں ہوا ہے لیکن کچھ افراد  امریکا اور اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں ۔

فلسطین کے مسئلے پرکسی بھی قسم کا یو ٹرن اور امریکا کے اشاروں پر ابراہیمی معاہدے میں شمولیت پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے برعکس ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا نظریہ ، علامہ اقبال کے افکار  سب کے یہ خلاف ہے، یہ سب کچھ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت سے ہوگا۔

پاکستان کے عوام ہمیشہ قائد اعظم کے پاکستان کی بات کرتے ہیں اور آج بھی حکومت کو بتا دیتے ہیں کہ قائد کے پاکستان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل