غزہُ(اوصاف نیوز)حماس نے امریکی صدر کی غزہ جنگ بندی معاہدے کی تجویز پر اپنا جواب ثالثوں کو جمع کرادیا ہے جس کے بعد کمانڈر عزالدین کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق حماس کے عسکری ونگ کے غزہ بریگیڈ کے کمانڈر عزالدین الحداد نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہے کہ اگر غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی “باعزت معاہدہ” نہ کیا گیا تو وہ “آزادی کی جنگ یا شہادت‘‘ کی جنگ کے لیے تیار رہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اب اسرائیل کو فوری جنگ بندی معاہدے پر حماس کی تجاویز کو قبول کرلینا چاہیے ورنہ ہم ایک نئی جنگ کے لیے تیار ہیں جو حتمی اور فیصلہ کن ہوگی۔

حماس کمانڈر نے ثالثوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے سے انحراف نہ کرنے پر پابند کریں۔

حماس کمانڈر کا یہ سخت مؤقف اس وقت سامنے آیا ہے جب ثالث جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں اور فریقین کو کسی ممکنہ معاہدے پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس کمانڈر کا یہ بیان نہ صرف حماس کی قیادت کے سخت مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ اشارہ بھی دیتے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو جنگ ایک نئے اور زیادہ شدید مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔

ادھر بین الاقوامی سطح پر ثالثی کی کوششیں جاری ہیں تاکہ فوری جنگ بندی ہو اور یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی جائے اور انسانی امداد غزہ کے شہریوں تک پہنچ سکے۔

خیال رہے کہ حماس کمانڈر عزالدین الحداد شمالی غزہ میں یرغمالیوں کے ساتھ وقت گزار چکے ہیں تاہم اس وقت ان کے غزہ شہر میں مقیم ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

وفاقی حکومت کاقرضہ 76ہزار 45ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا