معاہدہ اگر باعزت نہیں ہوا تو پھر حتمی جنگ ہوگی، حماس کمانڈر کا دوٹوک پیغام
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے کمانڈر نے اسرائیل و امریکا سمیت ثالثوں کو پیغام دیا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ اگر باعزت نہیں ہوا تو پھر حتمی جنگ ہوگی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق غزہ کی صورت حال ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں ایک طرف ثالث جنگ بندی کی کوشش کررہے ہیں اور دوسری جانب حماس کی جانب سے اسرائیل و امریکا کی جانب سے ماضی کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر دوٹوک مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی معاہدے کے مسودے پر اپنی جوابی تجاویز ثالثوں کے ذریعے متعلقہ فریقین کو پیش کر دی ہیں، مگر اس کے بعد سامنے آنے والا حماس کے عسکری کمانڈر عزالدین الحداد کا بیان اہمیت کا حامل ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عزالدین الحداد، جو کہ غزہ میں حماس کے بریگیڈ کمانڈر ہیں، نے اپنے قریبی ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی ایسا معاہدہ نہ کیا گیا جو فلسطینیوں کی عزت اور خودمختاری کا مظہر ہو تو وہ ’’آزادی یا شہادت‘‘کی جنگ کے لیے ہر لمحے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو حماس کی جانب سے دی گئی تجاویز کو فوری طور پر قبول کر لینا چاہیے، بصورت دیگر حماس نہ صرف نئی جنگ کے لیے تیار ہے بلکہ یہ مرحلہ پچھلے تمام مراحل سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہو گا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر، مصر اور دیگر ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک غزہ میں جاری بدترین انسانی بحران کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عزالدین الحداد کے مطابق اگر اسرائیل نے اس موقع پر بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو فلسطینی عوام مزید ظلم برداشت کرنے کے بجائے فیصلہ کن اقدام اٹھائیں گے۔
حماس کمانڈر نے واضح طور پر یہ بھی کہا ہے کہ ثالثوں کو چاہیے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ماضی کی طرح معاہدے سے انحراف نہ کرے کیوں کہ ماضی میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے وعدے بارہا ٹوٹ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں غزہ کے شہری بار بار جنگ، تباہی اور انسانی المیوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بار اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو اسرائیل کو پابند کرنا ہوگا کہ وہ طے شدہ شرائط کی پاسداری کرے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق عزالدین الحداد کا یہ بیان ایک باقاعدہ عسکری مؤقف کا حصہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ حماس کی قیادت سفارتی عمل کے دوران بھی کسی قسم کی کمزوری دکھانے کو تیار نہیں جب کہ اسرائیل کی جانب سے ماضی میں معاہدے کی کھلی خلاف ورزیاں کی جاتی رہی ہیں۔
دوسری جانب عالمی برادری اس صورتحال سے شدید تشویش کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی ادارے مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فوری طور پر جنگ بندی عمل میں لائی جائے تاکہ نہ صرف غزہ میں پھنسے ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں تک انسانی امداد پہنچائی جا سکے بلکہ زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کا کوئی قابل عمل راستہ بھی نکل سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عزالدین الحداد کی جانب سے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔