سینیٹ ضمنی انتخاب: اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا لیکن امیدوار واپس نہیں لیا، اسپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے سینیٹ ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کیا لیکن اپنا امیدوار الیکشن کمیشن سے واپس نہیں لیا۔
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد خان نے ایوان میں غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ اپوزیشن کا انتخابی عمل کا بائیکاٹ ان کا سیاسی فیصلہ اور صوابدید ہے۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ اپوزیشن نے بائیکاٹ تو کیا لیکن اپنا امیدوار الیکشن کمیشن سے واپس نہیں لیا، جس کی وجہ سے انتخابی عمل کرانا لازمی تھا۔
اسپیکر نے کہا کہ وہ ہمیشہ سیاسی عمل کے حامی ہیں اور سیاسی عمل میں بائیکاٹ دراصل عوام کے حقوق سے دوری کا سبب بنتا ہے۔
ملک محمد خان نے مزید کہا کہ جتنا انتقام میاں نواز شریف سے لیا گیا، کسی اور سیاسی رہنما کے ساتھ اتنی زیادتی نہیں ہوئی۔ ن لیگ کے رہنماؤں پر ناجائز مقدمات بنائے گئے اور گھروں کو جلایا گیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاست پر حملے کیے گئے، کور کمانڈر کے گھر اور رانا ثنا اللہ کے گھر پر حملہ اس کی واضح مثال ہے۔
علیمہ خان پر انڈا پھینکنے کے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ یہ عمل ناقابلِ قبول ہے اور جس نے بھی یہ حرکت کی ہے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔