بلوچستان میں ہڑتال،200سیاسی رہنما،کارکنان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کوئٹہ:بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پہیہ جام اور شٹرڈاو ¿ن ہڑتال کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے 200 سے زیادہ رہنماو ¿ں اور کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں پہیہ جام اور شٹرڈائون ہڑتال کوئٹہ میں دو ستمبر کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے بعد اس کے شرکا پر خود کش حملے کے خلاف کی گئی تھی، جس میں 15افراد ہلاک اور 38 لوگ زخمی ہوئے تھے۔
ہڑتال کی وجہ سے نہ صرف کوئٹہ بلکہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج رہے۔چھ سیاسی جماعتوں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال کی حمایت متعدد تاجر اور ٹرانسپورٹ تنظیموں نے بھی کی تھی۔ہڑتال کی وجہ سے کوئٹہ شہر میں تمام اہم تجارتی مراکز بند رہے جبکہ شہر میں ٹریفک بھی نہ ہونے کی برابر تھا۔کوئٹہ شہر میں صبح سے ہی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ان کو بند کر دیا تھا۔
ان رکاوٹوں کو ہٹانے اور کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شہر کے جناح روڈ سمیت مختلف علاقوں میں آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ گرفتاریاں بھی کیں۔ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ محمد بلوچ کے مطابق کوئٹہ شہر سے 200 سے زائد افراد کو دفعہ 144کی خلاف ورزی سمیت دیگر دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔بی این پی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتار رہنمائوں میں رحیم زیارتوال، قہار ودان، ملک نصیر شاہوانی، صمند بلوچ، عبدالخالق بلوچ، چنگیز حئی بلوچ کے علاوہ دیگر لوگ شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز