پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں شدید بارشوں کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
قومی آفات سے نمٹنے والے ادارے (این ڈی ایم اے ) نے اگلے 12 سے 48 گھنٹوں کے دوران پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ۔
پنجاب میں کہاں کہاں بارش ہوگی؟
پیشگوئی کے مطابق پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش اور طوفانی ہوائیں چلنے کا امکان ہے، جن میں گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور، حافظ آباد، فیصل آباد، چنیوٹ، سرگودھا ، ملتان، لیہ، خانیوال، وہاڑی، بہاولپور، بہاولنگر، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، خانپور، لیاقت پور، صادق آباد، رحیم یار خان ہیں۔
نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس کے پیشِ نظر مقامی انتظامیہ کو تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سندھ میں ہلکی سے درمیانی بارش متوقع
سندھ کے مختلف اضلاع میں ہلکی اور کہیں کہیں درمیانی شدت کی بارش کی پیشگوئی ہے، جن میں ٹھٹھہ، بدین، تھرپارکر، مٹھی، عمر کوٹ، میرپور خاص، ٹنڈو محمد خان، کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد، خیرپور، ٹنڈو آدم شامل ہیں۔
بلوچستان کے کچھ علاقوں میں بھی بارش کا امکان
بلوچستان کے کئی علاقے بھی آئندہ دو دنوں میں بارش کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں ان میں ژوب، لورالائی، سبی، ڈیرہ بگٹی، سوئی، خضدار، آواران، بارکھان، لسبیلہ، دادو، جیکب آباد، کشمور، جامشوروشامل ہیں۔
این ڈی ایم اے کی ہدایات
این ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھیں
غیر ضروری سفر سے گریز کریں
نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد خصوصی احتیاط برتیں
مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کریں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے علاقوں میں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔