عمران خان تاریخ کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے اوئے توئے کلچر متعارف کرایا، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
عمران خان تاریخ کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے اوئے توئے کلچر متعارف کرایا، رانا ثنااللہ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 September, 2025 سب نیوز
لاہور:
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سیاست میں اوئے توئے اور گالم گلوچ کا کلچر لانے والے واحد لیڈر ہیں، اور ان کی جماعت کا موجودہ طرزِ عمل سیاسی نہیں بلکہ انتشار پھیلانے والا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا بائیکاٹ دراصل راہِ فرار ہے کیونکہ ایک طرف وہ الیکشن کمیشن سے کاغذات وصول کرکے تمام پراسیس مکمل کرتے ہیں اور دوسری طرف عدالتوں میں جا پہنچتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے ہی ممبران پر اعتماد نہیں، ان کے کئی اراکین ووٹ کاسٹ کرنا چاہتے تھے مگر میں نے منع کیا کہ اپنی ہی جماعت کو ووٹ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو جب بیرونی خطرات لاحق تھے تو بانی پی ٹی آئی سننے کو تیار نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی سیاسی اور عسکری قیادت کے اتفاق رائے سے ممکن ہوئی، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نظر آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے میثاق استحکام پاکستان کا پیغام دے کر قومی یکجہتی کو فروغ دیا ہے، لیکن بانی پی ٹی آئی اور ان کے حامی انتشار، فتنہ اور انارکی کے خواہاں ہیں اور ان کا رویہ کسی طور بھی سیاسی نہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے بھی وہی عناصر ہیں جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاست ہمیشہ مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈ لاک سے نہیں۔ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ ہم این آر او نہیں دیں گے اور اسٹیبلشمنٹ بات کرنے کی اجازت نہیں دے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔
آخر میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور انہیں وہاں تمام قانونی سہولتیں ملنی چاہییں، ساتھ ہی انہوں نے علیمہ خان پر انڈہ پھینکنے کے واقعے کی بھی مذمت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ،سی ڈی اے کو شاہ اللہ دتہ اور( سی تیرہ )کے متاثرین کی رپورٹ ایک ماہ میں جمع کرانے کا حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ،سی ڈی اے کو شاہ اللہ دتہ اور( سی تیرہ )کے متاثرین کی رپورٹ ایک ماہ میں جمع... یو این اجلاس: امریکا کا فلسطینی وفد کو ویزا دینے سے انکار پاکستان سٹاک مارکیٹ میں انڈیکس ایک لاکھ 57 ہزار پوائنٹس کی نئی بلندی پر پہنچ گیا پشاور ہائی کورٹ کا شام کی عدالتیں شروع کرنے کا فیصلہ پنجاب: اعجاز چوہدری کی سینیٹ نشست پر ضمنی الیکشن عدالتی فیصلے سے مشروط کراچی: آج مون سون کا بڑا سپیل برسنے کو تیار، 100 ملی میٹر سے زائد بارش متوقع
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔