کراچی میں متوقع شدید بارش کے پیش نظر انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر چیف سیکریٹری نے کمشنر آفس کے کنٹرول روم سے شہر کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا۔
چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے میں بارش کا نیا اسپیل آنے کی پیشگوئی ہے، ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی ادارے عوامی خدمت کے لیے فیلڈ میں نکلیں، تمام ڈپٹی کمشنر اور بلدیاتی عملہ بارش کے نئے اسپیل کے لیے تیاررہیں۔
کمشنر کراچی نے اسسٹنٹ کمشنرز اور میونسپل کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ندی نالوں اور نکاسی آب کا فوری جائزہ لیں، عوامی سہولت مدنظر رکھتے ہوئے بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے ضروری مشینری کا انتظام کیا جائے۔
کمشنر نے کہا کہ ٹریفک پولیس ٹریفک کی روانی کو یقینی بنائے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات نہ ہوں، پی ڈی ایم اے کی فراہم کردہ مشینیں نکاسی آب کے لیے تیار رکھی جائیں۔
دریں اثنا کراچی میں ممکنہ بارشوں کی پیش نظر پی ڈی ایم اے نے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ نے شاہراہ فیصل اور ڈرگ روڈ پر نصب پمپس کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور اطمنان کا اظہار کیا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ شہر کی اہم شاہراہوں پر ڈی واٹرنگ پمپس نصب کیے گئے ہیں، شہر میں کل 13 پمپس لگائے گئے ہیں، 3 پمپس ایمرجنسی میں مطلوبہ مقامات پر پہنچائے جائیں گے۔
سلمان شاہ نے کہا کہ عملہ کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہے، بارش کا سلسلہ مختلف اوقات پر جاری رہنے کے امکانات ہیں، عوام غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے کے لیے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.