نئی دہلی: بھارت اور اسرائیل نے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط کر دیے۔ 

یہ معاہدہ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموتریچ کے دورۂ بھارت کے دوران طے پایا، جہاں انہوں نے اپنی بھارتی ہم منصب نرملا سیتا رمن سے ملاقات کی۔

اسرائیل کے مطابق یہ پہلا معاہدہ ہے جو بھارت نے اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کے کسی رکن ملک کے ساتھ کیا ہے۔ 

معاہدے کے تحت سرمایہ کاروں کو ریگولیٹری تبدیلیوں اور اثاثوں کی ضبطی جیسے خدشات سے تحفظ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تنازعات کے حل کے لیے آزادانہ ثالثی کا فورم بھی فراہم کیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے نجی کمپنیوں کے لیے بھارت اور اسرائیل میں سرمایہ کاری کا راستہ مزید محفوظ اور آسان ہوگا۔ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 4 ارب ڈالر تک پہنچا تھا، جبکہ رواں سال عسکری حکام نے دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا کے کئی ممالک اسرائیل کے ساتھ معاشی تعلقات محدود کر رہے ہیں اور متعدد بڑے سرمایہ کاری فنڈز نے غزہ میں جاری جنگ کے باعث اسرائیلی اثاثوں سے سرمایہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری

پڑھیں:

وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم

سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی