تیونس کی بحری حدود میں غزہ امدادی فلوٹیلا پر مبینہ ڈرون حملہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
غزہ کے لیے نکلنے والے عالمی صمود فلوٹیلا نے منگل کو کہا ہے کہ اس کی مرکزی کشتیوں میں سے ایک کو تیونس کے پانیوں میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم اس پر سوار تمام مسافراورعملہ محفوظ رہا۔
بیان کے مطابق پرتگالی پرچم بردار کشتی کو، جس پر فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی موجود تھی، آگ لگنے سے مین ڈیک اور زیرِ عرشہ ذخیرہ گاہ میں نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں:
تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق تیونس کی نیشنل گارڈ کے ترجمان نے ڈرون حملے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی معائنے میں دھماکے کا منبع کشتی کے اندر سے ظاہر ہوتا ہے۔
Breaking news;
Here is the security camera footage from the Family vessel of the Sumud Flotilla, stationing just outside Tunis port.
1. Sound of something that the crew identified as a drone.
2. Crews sounds the alarm and calls for help.
3. Explosion.
Draw your conclusions. pic.twitter.com/HmkFG7yaEt
— Francesca Albanese, UN Special Rapporteur oPt (@FranceskAlbs) September 8, 2025
یہ فلوٹیلا ایک بین الاقوامی مہم ہے جو 44 ممالک کے نمائندوں کی حمایت سے عام شہری کشتیوں کے ذریعے غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
فلوٹیلا میں دنیا کی کئی نمایاں شخصیات شریک ہیں، جن میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور بارسلونا کی سابق میئر آدا کولو شامل ہیں، جب کہ اٹلی کی پارلیمنٹ کے 4 ارکان بھی اس مہم میں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔
حملے کے بعد درجنوں افراد تیونس کی سیدی بو سعید بندرگاہ کے باہر جمع ہوگئے، جہاں فلوٹیلا کی کشتیاں لنگر انداز تھیں۔ انہوں نے فلسطینی پرچم لہرائے اور ’فری فلسطین‘ کے نعرے لگائے۔
Speaking to Middle East Eye, Miguel Duarte, an activist who was on board the Family Boat, the main vessel of the Global Sumud Flotilla, said that a drone hovered above their heads before dropping an explosive on the foredeck of the ship pic.twitter.com/ql7QOt86Ly
— Middle East Eye (@MiddleEastEye) September 9, 2025
اسرائیل نے 2007 میں حماس کے غزہ پر قبضے کے بعد ساحلی علاقے پر بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ حماس تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ہے۔
یہ ناکہ بندی مختلف جنگوں کے دوران بھی برقرار رہی ہے، بشمول موجودہ جنگ، جو اکتوبر 2023 میں حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے سے شروع ہوئی تھی۔ اس حملے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,200 افراد ہلاک اور تقریباً 250 یرغمال بنائے گئے تھے۔
اس کے جواب میں اسرائیلی فوجی کارروائی سے غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 64 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ عالمی ادارے بھوک کے حوالے سے خبردار کر رہے ہیں کہ علاقے کے کچھ حصے قحط کا شکار ہیں۔
مزید پڑھیں:
اسرائیل نے مارچ 2024 کے اوائل میں غزہ کو خشکی کے راستے بھی مکمل طور پر بند کر دیا تھا اور 3 ماہ تک کوئی سامان اندر جانے کی اجازت نہیں دی، یہ کہہ کر کہ حماس امداد کو ہتھیار بنا رہی ہے۔
صمود فلوٹیلا نے مزید کہا کہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور نتائج دستیاب ہوتے ہی شائع کیے جائیں گے۔
’ہمارے مشن کو خوفزدہ کرنے اور سبوتاژ کرنے کی کوششیں ہمیں روک نہیں سکتیں۔ غزہ کا محاصرہ توڑنے اور اس کے عوام سے یکجہتی کے ہمارے پرامن مشن کو ہم عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھیں گے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل بارسلونا بحری ناکہ بندی تیونس حماس ڈرون سیدی بو سعید بندرگاہ عالمی صمود فلوٹیلا غزہ فلوٹیلا قحط گریٹا تھنبرگ نیشنل گارڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل بارسلونا بحری ناکہ بندی تیونس سیدی بو سعید بندرگاہ عالمی صمود فلوٹیلا فلوٹیلا گریٹا تھنبرگ نیشنل گارڈ کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :