اسکردو میں ریچھ کے حملے کا شکار ہونے والی گلوکارہ قرۃ العین بلوچ کی ٹیم نے ان کی صحت سے متعلق پہلا باضابطہ بیان جاری کردیا۔

قرۃ العین بلوچ کے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گلوکارہ حال ہی میں بلتستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے کام کرنے گئی تھیں جہاں وہ جامع ڈیزاسٹر ریسپانس سروسز (سی ڈی آر ایس) کے ہمراہ متاثرہ دیہات میں امدادی سرگرمیوں میں شریک تھیں۔

بیان کے مطابق 4 ستمبر کی رات دورانِ قیام، خیمے میں موجودگی کے وقت ان پر بھورے ریچھ نے حملہ کیا تاہم سی ڈی آر ایس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ریچھ کو بھگا دیا۔

متعلقہ خبر: پاکستانی گلوکارہ قرۃ العین بلوچ پر ریچھ نے حملہ کردیا

قرۃ العین بلوچ کو فوراً قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور کوئی فریکچر نہیں ہوا۔ وہ تیزی سے صحت یاب ہورہی ہیں۔

گلوکارہ کی ٹیم نے مداحوں سے دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ان کی پرائیویسی کا خیال رکھیں کیونکہ قرۃ العین کو مکمل آرام کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی تمام عوامی سرگرمیوں کو ان کی صحت یابی تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

A post common by Quratulain قراۃلعین بلوچ (@qbalouch)

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: قرۃ العین بلوچ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل