گلوکارہ قرۃ العین بلوچ کا ریچھ کے حملے کے بعد پہلا ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
اسکردو میں ریچھ کے حملے کا شکار ہونے والی گلوکارہ قرۃ العین بلوچ کی ٹیم نے ان کی صحت سے متعلق پہلا باضابطہ بیان جاری کردیا۔
قرۃ العین بلوچ کے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گلوکارہ حال ہی میں بلتستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے کام کرنے گئی تھیں جہاں وہ جامع ڈیزاسٹر ریسپانس سروسز (سی ڈی آر ایس) کے ہمراہ متاثرہ دیہات میں امدادی سرگرمیوں میں شریک تھیں۔
بیان کے مطابق 4 ستمبر کی رات دورانِ قیام، خیمے میں موجودگی کے وقت ان پر بھورے ریچھ نے حملہ کیا تاہم سی ڈی آر ایس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ریچھ کو بھگا دیا۔
متعلقہ خبر: پاکستانی گلوکارہ قرۃ العین بلوچ پر ریچھ نے حملہ کردیا
قرۃ العین بلوچ کو فوراً قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور کوئی فریکچر نہیں ہوا۔ وہ تیزی سے صحت یاب ہورہی ہیں۔
گلوکارہ کی ٹیم نے مداحوں سے دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ان کی پرائیویسی کا خیال رکھیں کیونکہ قرۃ العین کو مکمل آرام کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی تمام عوامی سرگرمیوں کو ان کی صحت یابی تک ملتوی کردیا گیا ہے۔
A post common by Quratulain قراۃلعین بلوچ (@qbalouch)
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: قرۃ العین بلوچ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔