حماس نے جنگ بندی تجویز پر مثبت ردعمل دے دیا: فلسطینی عہدیدار
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
حماس نے غزہ میں امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی منصوبے پر مثبت انداز میں ردعمل دے دیا ہے، جس کی تصدیق ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک حماس فوری اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ جنگ بندی کے طریقہ کار پر پیشرفت ہو سکے۔ یہ اعلان فلسطینی گروہوں سے مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے۔
مزید پڑھیں: حماس جنگ بندی مذاکرات پر تیار، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 18 افراد شہید
حماس کے اتحادی اسلامی جہاد نے بھی مذاکراتی عمل کی حمایت کی ہے لیکن شرط عائد کی ہے کہ اسرائیل دوبارہ جارحیت نہ کرے۔ اس پیشرفت کے بعد یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری 21 ماہ کی خونریز جنگ میں نیا جنگ بندی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: حماس غزہ میں جنگ بندی کے لیے کس بات کی ضمانت مانگ رہی ہے؟
یاد رہے کہ اس جنگ میں اب تک 57 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور 1 لاکھ 35 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے میں 1,139 اسرائیلی ہلاک اور 200 سے زائد یرغمال بنائے گئے تھے۔
اس اعلان کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچیں گے، جہاں ممکنہ جنگ بندی پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا جنگ بندی حماس غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا فلسطین کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔