Express News:
2026-07-24@05:21:59 GMT

پاک افغان مذاکرات اور امن کی گارنٹی (آخری قسط)

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

سب کی نظریں استنبول پر لگی ہوئی تھیں کہ اگر افغان طالبان صدقِ دل سے دہشت گردوں سے کنارہ کشی کا عہد کرتے ہیں، تب اس خطے میں امن اور استحکام نصیب ہوگا اور عوام کی زندگیاں خوشحالی کے نور سے منوّر ہوں گی۔ ہم خود مذاکرات کی کامیابی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں مگر خبریں زیادہ حوصلہ افزاء نہیں مل رہیں۔

پاکستان کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی نہ کرنے اور ان سے ہر قسم کا تعلّق ختم کرنے کے لیے ٹھوس اور یقینی اقدامات کیے جائیں جن کی تصدیق نظر آئے، ورنہ دہشت گردی جاری رہے گی اور پھر جب بھی اُدھر سے آ نے والے عناصر پاکستان کے اندر کوئی کارروائی کریں گے تو پاکستان، افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے کا حق استعمال کرے گا، یہ موقف درست، منصفانہ اور عالمی قوانین کے مطابق ہے۔ افغانی وفد نے کچھ مہلت مانگی ہے تاکہ وہ پاکستان کے مطالبات پر غور کرسکیں۔ اگر وہ مخلص اور نیک نیّت ہوتے تو وقت لینے یا مہلت مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

چند روز پہلے ایک جیّد اور باعمل عالمِ دین سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے بڑی چشم کشا باتیں کیں جو قارئین سے شیئر کرنا ضروری ہے۔ فرمانے لگے ’’اگر ان طالبان کے دلوں میں اﷲ کا ڈر ہوتا یا رسول کریمؐ سے محبّت ہوتی تو یہ لوگوں کو ایک حرام عمل خودکشی (یعنی خودکش حملوں) پر کبھی نہ لگاتے۔

اگر انھیں اسلام سے عقیدت ہوتی تو وہ مظلومینِ غزہ اور فلسطینیوں پر مظالم کے پہاڑ گرانے والے اسرائیل کے خلاف کھل کر نفرت کا اظہار کرتے مگر کیا انھوں نے کبھی غزہ کی آزادی کے لیے وہاں جاکر جہاد کرنے کی بات کی ہے یا کبھی کسی اسرائیلی فوجی پر حملہ کیا ہے؟ بالکل نہیں۔ روس نے جب افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو لاکھوں بے گناہ افغانیوں کو قتل کردیا تھا ، مگر کیا طالبان یا ٹی ٹی پی نے کبھی روسی فوجیوں پر حملے کیے ہیں؟ بالکل نہیں۔ 9/11 کے بعد امریکا نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی، مگر بعد میں دوحہ میں اسی امریکا سے معاہدہ کرلیا۔ بھارتی فوجیوں نے کشمیر میں بے گناہ مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے ہیں۔ ہندوستان میں آئے دن مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ ہر روز وہاں مساجد شہید کردی جاتی ہیں۔

بھارت میں مسلمانوں کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر بنادی گئی ہے مگر کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ طالبان نے کبھی بے گناہ مسلمانوں کا قتل کرنے والے بھارتی فوجیوں پر حملے کیے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ ایک سروے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں پر سب سے زیادہ ظلم یا اسرائیلی فوج کر رہی ہے یا بھارتی فوج۔ اگر طالبان یا ٹی ٹی پی کو اسلام اور مسلمانوں سے محبّت ہوتی تو وہ ان کے خلاف حملے کرتے مگر کیا کبھی اسرائیلی یا بھارتی فوجی، افغانی طالبان یا ٹی ٹی پی کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ اگر وہ حملے کرتے ہیں تو برادر اسلامی ملک کے خلاف۔ اگر وہ خودکش حملوں کے ذریعے جانیں لیتے ہیں تو اسلامی ملک پاکستان کی حفاظت پر مامور ان محافظوں کی، جو اپنے مورچوں پر پانچ وقت اپنے خالق کے آگے سر جھکاتے ہیں، جو تہجّد گذار ہیں اور ہر روز قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اسلام کی محبّت میں ایسا کررہے ہیں؟ بالکل نہیں۔ وہ صرف پیسوں کے لیے کرائے کے قاتل بن گئے ہیں‘‘۔

چند روز پہلے چائے پر کچھ دوست اکٹھے ہوئے، اُن میں ایک سابق سروس چیف بھی تھے۔ انھوں نے افغانستان کے احسان فراموش حکمرانوں کے معاندانہ طرزِ عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو بھارت اس سال مئی کی شکست سے بری طرح تلملا رہا ہے۔ وہ کئی مہینوں سے اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور اپنی ہزیمت کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ بھارت کی عسکری قیادت کو معلوم ہے کہ دوبارہ حملے کی cost بہت زیادہ ہوگی۔ ایسی صورت میں انھیں شاید پہلے سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑے، اس لیے وہ براہِ راست، خود حملہ کرنے کے بجائے بالواسطہ طور پر پاکستان پر حملے کروارہے ہیں اور اس پر  بے تحاشا پیسہ invest کررہے ہیں۔ انھیں پاکستان کی سیکیوریٹی فورسز پر حملے کرنے کے لیے ٹی ٹی پی کی صورت میں کرائے کے دہشت گرد میّسر آگئے ہیں۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ اسلام کا نظام نافذ کرنے کے نام پر تحریک شروع کرنے والے اب اسلام کے بدترین دشمنوں کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں۔ دوسری تلخ حقیقت یہ ہے کہ مئی سے پہلے کمزور معیشت اور عدمِ استحکام کے باعث پاکستان کا profile بہت نیچے تھا مگر مئی کی جنگ کے بعد پاکستان کا نام اور مقام غیر معمولی طور پر بلند ہوا ہے، اور اس کی اہمیّت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس چیز کو بھی ہمارے دشمنوں سمیت کچھ عالمی طاقتیں ہضم نہیں کرپا رہیں۔ لہٰذا پاکستان کے بد خواہ اکٹھے ہوکر اسے غیر مستحکم کر نے کی کوششوں اور سازشوں میں مصروف ہیں اور اس کے لیے وہ دہشت گردی کی کاروائیوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ خفیہ طور پر ان کاروائیوں کو ہر قسم کی امداد بھی فراہم کرتے ہیں۔

مجھے خود اپنا وہ دور یاد آتا ہے جب میں کے پی کے میں تین ڈویژنوں میں تعیّنات رہا تھا۔ صوبے کے قبائلی علاقوں میں 2004میں آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ میں چونکہ پنجاب سے گیا تھا اور یہاں 2005-06میں یہی تاثر تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن، امریکا کے کہنے پر کیا جارہا ہے، مگر وہاں جاکر جب اصل حقائق کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ ہماری سیکیوریٹی فورسز امریکا کے لیے نہیں بلکہ دفاعِ وطن کے لیے لڑرہی ہیں اور قربانیاں دے رہی ہیں، جب کہ عسکریت پسندوں کی کاروائیاں اسلام کے لیے ہرگز نہیں ہیں، ان میں بہت سے لوگ وہ ہیں جو مختلف جرائم میں پولیس کو مطلوب تھے، وہ فرار ہوکر اُن لوگوں سے جا ملے۔

اس کے علاوہ غربت اور بے روزگاری کا شکار بہت سے نوجوان بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ انھیں پہلے تو گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا مگر عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ ملنے سے ایک دم ڈالروں میں تنخواہ ملنے لگی، اسلحہ بھی مل گیا جس سے علاقے کے لوگ بھی ڈرنے لگے۔ لہٰذا وہاں کے بے روزگار نوجوانوں کے لیے یہ ایک دلکش کیرئیر تھا۔ مجھے اس وقت پنجاب کے لوگ عسکریت پسندوں کے بارے میں پوچھتے تو میں بتاتا تھا کہ وہ جہالت اور درندگی کا ملاپ ہے اور اس میں religiously motivated لوگوں کی تعداد دس پندرہ فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ میں کئی واقعات بتاتا تھا کہ کسی علاقے میں پولیس نے منشیات فروشوں کی گرفتاری کے لیے ریڈ کیا تو ملزم کہیں روپوش ہوگئے، چند روز بعد پتا چلا کہ وہ منشیات فروش اب ٹی ٹی پی کے ساتھ مل گئے ہیں اور مقامی لوگوں سے زبردستی بھتّہ لے رہے ہیں۔

2007میں انھوں نے ٹانک سٹی تھانے کے ایس ایچ او کو شہید کردیا جس پر شہید انسپکٹر کے محافظوں نے طالبان کمانڈر برکی کو مار ڈالا۔ اس کے دو دن بعد انھوں نے ٹانک سٹی پر بہت بڑا حملہ کیا، جس میں سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو تباہ کر ڈالا، اُس وقت ان کا سپریم کمانڈر بیت اللہ محسود تھا۔ میں اُس وقت اعلیٰ ذرایع سے پوچھتا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بیت اللہ کے ٹھکانے کا پتہ کرنا کون سا مشکل کام ہے، اسے کیوں ہِٹ نہیں کیا جاتا تو کچھ ذرایع اعتماد میں لے کر بتاتے تھے کہ بیت اللہ محسود کو ہِٹ کرنے سے امریکا نے روک رکھا ہے کیونکہ وہ امریکا کا قابلِ اعتماد شخص ہے۔ میں یہ سن کر حیران اور پریشان ہوگیا تھا کہ بظاہر یہ امریکا کے خلاف ’’جہاد‘‘ کررہے ہیں مگر اندر سے ان کے کئی اہم لوگ امریکا کے پے رول پر ہیں، اور اس کے کہنے پر کاروائیاں بھی کرتے ہیں۔

کچھ لوگوں کی اس بات میںخاصا وزن ہے کہ افغانی طالبان پیسے کی کشش کے باعث بھارت کی گود میں جا بیٹھے ہیں مگر ہمارا دوست چین انھیں پیسہ بھی زیادہ دے سکتا ہے اور افغانستان کی تعمیر وترقی کے لیے بھی زیادہ موثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ اِس خطے کے امن اور استحکام کے لیے چین سے زیادہ موثر کردار ادا کرنے کی درخواست کرے۔ امریکا ہمیشہ ناقابلِ اعتبار ثابت ہوا ہے، اس لیے ہمیں امریکا کے ساتھ ایسی ’’محبّت‘‘ استوار کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے چین جیسے قابلِ اعتبار اور مخلص دوست کے ماتھے پر بل پڑیں۔

لیکن سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ افغانوں کی دہشت گردی ہو یا ’’سندور ٹو‘‘ کی تیّاری امن کی گارنٹی کوئی دوسرا ملک نہیں دے سکتا۔ امن کی گارنٹی ہماری اپنی طاقت اور تیّاری ہے۔ عسکری طاقت اور تیاّری کے علاوہ جنگ میں فیصلہ کن کامیابی کے حصول کے لیے متعلقہ علاقے یا صوبے کے عوام کی حمایت اور تعاون بھی بے حد ضروری ہے۔ اربابِ اختیار کو اس طرف بھی توجّہ دینا ہوگی۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکا کے کرتے ہیں انھوں نے یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے خلاف کے ساتھ کرنے کے پر حملے نے والے ہیں اور مگر کیا نے کبھی کے لیے اور اس تھا کہ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان