WE News:
2026-06-03@07:59:45 GMT

انڈیا کی افغانستان سے دشمنی

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ دورہ بھارت کی خبریں سامنے آئیں تو اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ ہمارا خطہ اب مزید عدم استحکام کی طرف بڑھے گا۔

کتنا اچھا ہوتا کہ یہ اندازہ یا تجزیہ ناقص ٹھہرتا اور انڈیا افغانستان کے ساتھ مل کر کچھ ایسے اعلانات یا اقدامات کرتا جو نہ صرف افغانستان میں امن اور استحکام لے کر آتے بلکہ اس کے ساتھ پورے خطے اور بالخصوص انڈیا اور پاکستان کے اندر حالات بہتر ہوتے۔

لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا، اور جو ہوا، اس کے برعکس ہوا۔

متقی صاحب کے انڈین سرزمین پر قدم رنجہ ہوتے ہی افغانستان سے پاکستان کے سرحدی علاقوں اور بارڈر پوسٹوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی گئی تاکہ ایک طرف انڈیا کو خوش کیا جائے اور دوسری طرف اس فائرنگ کی آڑ میں دہشت گرد پاکستان کے اندر داخل کئے جائیں۔

لیکن ماضی کے برعکس اس مرتبہ پاکستانی حکام نے اس چال کو ناکام بنانے کے لئے بھرپور جوابی کاروائی کا فیصلہ کیا اور افغانستان کے اندر جا کر کابل اور قندھار میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

کشیدگی بڑھی تو دوست ممالک سعودی عرب، ترکی اور قطر کی مصالحانہ کوششوں پر پاکستان پہلے دوحا معاہدے کے تحت سیزفائر اور پھر 25 اکتوبر کے جامع مذاکرات پر رضامند ہو گیا۔

لیکن دوسری طرف افغانستان نے متقی صاحب کے وطن لوٹتے ہی انڈیا کی ایما پر پاکستان کے ایک بڑے علاقے کو سیراب کرنے والے دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے کا اعلان کر دیا۔

یہی نہیں بلکہ سیز فائر کے باوجود دہشت گردوں کی سرپرستی جاری رکھی۔

پاکستان نے سیزفائر کے بعد دہشت گردی کے نئے واقعات کے باوجود کوئی ردعمل نہیں دیا اور ایک مثبت روئیے کے ساتھ 25 اکتوبر کو شروع ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں گیا لیکن استنبول سے آخری خبریں آنے تک افغانستان کا وفد امن کے عمل کو آگے بڑھنے سے روک رہا ہے اور ابھی تک دہشت گردی کے ٹھکانوں کے خاتمے کی مکمل یاد دہانی کرانے سے منکر ہے۔

19 اکتوبر کے سیزفائر معاہدے اور 25 اکتوبر کے مذاکراتی دور کے درمیانی ہفتے میں ایک اور اہم پیشرفت یہ ہوئی کہ افغانستان میں سابق امریکی سفیر پاکستان مخالف زلمے خلیل ذاد خصوصی طور پر کابل پہنچا اور وہاں اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے نتائج استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں افغان طالبان کے نمائندوں کے عدم تعاون کی صورت میں سامنے آئے۔

اس تمام تر پیشرفت کے بعد یہ بات اب عیاں ہو گئی ہے کہ انڈیا اور اس کے حمایتی اب مکمل طور پر افغان دشمنی پر اتر آئے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ افغان طالبان کی پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو بڑھا کر وہاں عدم استحکام میں اضافہ کریں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ انڈیا تو افغانستان کا دوست ہے اور اس کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنے کے لئے ہر لحاظ سے اس کی مدد کر رہا ہے تو وہ افغانستان سے دشمنی کیسے کر سکتا ہے؟

تو جواب یہ ہے کہ انڈیا افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال ضرور کرنا چاہ رہا ہے لیکن اس منصوبے کا سب سے بڑا نقصان افغانستان کو ہی ہونا ہے اور پاکستان اور انڈیا جیسے ہاتھیوں کی لڑائی میں پسنا افغانی چیونٹی نے ہے۔

اس وقت افغانستان میں 80 فیصد لڑکیاں اور ایک بڑی تعداد میں لڑکے تعلیم سے دور ہیں۔ افغانستان کی خوردو نوش اور تعمیر و ترقی کا مکمل انحصار پاکستان پر ہے۔ آٹے، چینی سے لے کر کپڑوں حتی کہ چین اور دوسرے ممالک سے آنے والی مشینری بھی پاکستان کے ذریعے ہی افغانستان پہنچتی ہے۔ یہی نہیں، پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت اور تعمیراتی سرگرمیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں افغان نوجوان برسرروزگار ہیں۔

ایسے میں اگر افغان طالبان انڈیا اور ذلمے خلیل ذاد جیسوں کے بہکاوے میں آ کر پاکستان کے خلاف کھلم کھلا جنگ کا حصہ بنتے ہیں تو ان کا ملک دوبارہ سے مکمل تباہی کی طرف دھکیلا جائے گا، جو تھوڑی بہت انفراسٹرکچر کی تعمیر شروع ہوئی ہے، وہ فوری ختم ہو جائے گی، بھوک، غربت اور بیماریاں نئی بلندیوں کو چھوئیں گی اور افغانستان پاکستان کا اعتماد ہمیشہ کے لئے کھو دے گا۔

انڈین یقینی طور پر افغان طالبان کو پاکستان کے متبادل تجارتی راستوں، بندرگاہوں اور ذرائع اشیائے خوردونوش کے سبق پڑھا رہے ہوں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے علاوہ کسی بھی ملک کے ساتھ تجارت اور ٹرانزٹ روٹ کا استعمال نہ صرف افغانوں کو کئی گنا مہنگا پڑے گا بلکہ اس کے لئے سٹرکچر بنانے میں ہی کئی دہائیاں لگ جائیں گی جو پاکستان کے ساتھ محاز آرائی کے پس منظر میں مزید مشکل ہو جائے گا۔

افغانستان کے لئے پاکستان کے بعد سستا ترین روٹ ایران میں انڈیا کی بنائی بندرگاہ چاہ بہار ہے۔ لیکن یہاں سے تجارت ایک تو پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا مہنگی اور طویل مشکل سفر پر مشتمل ہو گی دوسرا ایران پر عائد بین الااقوامی پابندیوں کے باعث افغان طالبان وہاں سے ہر چیز منگوا بھی نہیں سکتے۔

اس کے علاوہ افغان طالبان رجیم وسطی ایشیائی ممالک ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کے ذریعے بندرگاہوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہے لیکن وہاں کی بندرگاہوں کے لئے رستے بناتے بناتے اس رجیم کے سپوت تو بوڑھے ہو جائیں گے۔

تو ہو گا کیا؟ افغان طالبان انڈیا کے لئے کرائے کے قاتل بن کر پاکستان پر حملے کریں گے، پاکستان جوابی کاروائی کرے گا اور افغان عوام ہر لمحے پستی، جہالت اور غربت کی مزید گہری دلدل میں دھنستے جائیں گے۔ انڈیا خوش ہو گا کہ پاکستانی فوج کو مصروف رکھا ہوا ہے، پاکستان اپنے وسائل، مہارت اور عزم کی بنیاد پر انڈیا اور اسکی پراکسیز کو دونوں محازوں پر ناکوں چنے چبواتا رہے گا اور افغان عوام اس دشمنی کا چارہ بنتے رہیں گے۔

اس سارے کھیل میں انڈیا کی دشمنی پاکستان سے نہیں افغانستان کے عوام اور اس کی تعمیر و ترقی اور اس کے استحکام سے ہے۔

انڈیا افغانستان کا دشمن ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خرم شہزاد

انڈیا افغانستان تعلقات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انڈیا افغانستان تعلقات انڈیا افغانستان افغانستان کے افغان طالبان پاکستان کے انڈیا اور اور افغان انڈیا کی کے ساتھ کے لئے اور اس

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود