Express News:
2026-07-24@05:07:48 GMT

پاک افغان کشیدگی کا واحد حل اور چینل

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

اس خطے میں موسم سرما حالت جنگ میں امن کی علامت بن کر نمودار ہوا کرتا تھا لیکن بدقسمتی سے اس بار یخ بستہ موسم امن کی علامت بن کر نہیں آیا بلکہ دو برادر اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مژدہ لے کر آیا ہے۔

اس دوستی، محبت، یگانگت، بھائی چارے اور ایثار کو دشمنوں کی نظر لگ گئی، جو ایثار و قربانی اور خون کے سمندر پار کرکے حاصل ہوئی تھی۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر براہ راست حملوں کے بعد دوستی کے دروازوں کو دشمنی کے دروازے قرار دے کر بند کر دیے ہیں۔

میں ذاتی طور پر مکمل یکسو مگر خوش گمانی میں مبتلا تھا کہ یہ چائے کی پیالی میں مشرک بنیئے کا پیدا کردہ طوفان ہے جو ایک گھونٹ میں ختم ہوجائے گا مگر برادر ملا محمد امیر خان متقی صاحب اور برادر ذبیح اللہ مجاہد صاحب کے بیانات سن کر میں پریشان ہوا کہ بات خطرناک حد تک بگڑ اور نفرتوں کی دیواریں کھڑی ہوچکی ہیں۔

دونوں طرف کی بعض حکمت و مصلحت سے عاری شخصیات کے نفرت انگیز بیانات دراڑوں کو مزید گہرا اور دوستی کے قلعے کو منہدم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ آرزو بھارت اور اسرائیل کی تو ہو سکتی ہے کسی محب وطن پاکستانی یا افغانی کی بالکل نہیں۔

پوری امت مسلمہ اس کشیدگی پر شدید مضطرب ہے۔ قطر، ترکیہ اور سعودی عرب نے اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے عملی طور پر کردار ادا کرنے کی کوشش کی، کئی بار مذاکرات کی میز سجائی گئی لیکن کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکے۔

کشیدگی، بگاڑ اور مذاکراتی عمل میں بار بار ڈیڈ لاک اور ایک دوسرے پر بداعتمادی کی واحد وجہ "را" اور "موساد" ہیں جو پاک افغان دوستی کے خلاف گھات لگائے بیٹھے ہیں اور دونوں ملکوں سے سرزد ہونے والی غلطیوں اور غلط فہمیوں کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

پاکستان اور امارت اسلامیہ افغانستان کا مشترکہ دشمن ہندوستان اس کشیدگی سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے پہلے اور موجودہ دور میں آتے ہی دو بار بھاگنے کے بعد ایک بار پھر را کے ایجنٹ افعانستان میں اپنے پیر جمانے کی تگ و دو میں ہیں۔

بحیثیت پاکستانی گزشتہ کالم میں پاکستان کے ارباب اختیار کو مشورہ دیا تھا کہ ہمیں ہر صورت افغانستان اور ہندوستان کے درمیان کھڑا ہونا ہے ورنہ ہندوستان جیسی مکار اور عیار ریاست افغانستان کی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرے گی۔

اب بحیثیت مسلمان اور افغانستان کے ایک خیرخواہ افغانستان کے ذمے داران کو مشورے سے پہلے بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ چند ماہ سے دونوں ملکوں کی حکومتوں نے جو فیصلے کیے اس سے براہ راست دونوں ملکوں کے عوام بری طرح متاثر ہوئے۔

عام لوگوں کی زندگیاں ان فیصلوں کی چوٹ اور وزن کو برداشت نہیں کر پا رہیں۔ تجارت سے لے کر نقل و حرکت تک، ہر دروازہ بند ہونے کی قیمت دونوں ملکوں کے عوام چکا رہے ہیں، سرحد کے دونوں پار منقسم خاندان عذاب میں مبتلا ہیں۔

بارڈر بند ہونے کی وجہ سے تکلیف سب کو ہے مگر افغان عوام کے لیے جینا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ علاج معالجہ کے لیے ان کا مکمل انحصار و دارومدار پاکستان خصوصاً پشاور اور کوئٹہ پر ہے۔ موسم سرما کی شدت سے مشکلات اور بحران میں اضافہ ہو گیا ہے۔

غربت، بھوک اور بنیادی سہولیات کی کمی نے لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو اذیت ناک بنا دیا ہے۔ بچوں کے لیے خوراک، ادویات، جوتے، گرم لباس اور ضروری اشیائے خورونوش تک کا انتظام نا کافی ہے۔ اقوام متحدہ کی درخواست پر پاکستان نے انسانی بنیاد پر امدادی سامان کے لیے بارڈر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سامان میں خوراک، ادویات، طبی آلات اور صحت و تعلیم سے متعلق ضروری اشیا شامل ہیں مگر حیرت ہے افغانستان نے کہا کہ اب تک پاکستان نے بارڈر بند کیا تھا اب ہم کھولنے پر راضی نہیں! یہ ضد اور انا کسی بڑے حادثے کو جنم دے سکتا ہے سب کو ہوش کے ناخن لے کر چلنا چاہیے۔

اس خطے کی تاریخ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ سختی اور جنگ نے کبھی دیرپا حل نہیں دیا۔ اس لیے طرفین اپنے اپنے عوام کے مفادات کی خاطر جنگ کا صفحہ صدق دل سے پھاڑ کر امن کی طرف قدم بڑھائیں۔

اشتعال، الزام تراشی اور جذباتی فیصلوں سے بچتے ہوئے بات چیت کے راستے کھلے رکھیں حالات جیسے بھی ہوں امن ہی وہ واحد راستہ ہے جو خطے کے معاشی استحکام اور بقا کا ضامن بن سکتا ہے، اگر نیت صاف اور مقصد امن ہے تو یہ چند دنوں کی بات ہے۔

لفظی گولاباری سے اجتناب کرتے ہوئے خود آگے بڑھیں بغیر کسی تیسرے ملک کے بات چیت کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے ذمے داران کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مستحکم پاکستان اور مستحکم افغانستان ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور دونوں طرف خصوصاً افغانستان کے سیکولرز جلتی پر تیل ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے وہ اس کشیدگی کی آڑ میں ایک بار پھر افغانستان کو کسی المیے سے دوچار کر دینگے۔

سوشل میڈیا پر جارحیت، نفرت اور تعصب پھیلا کر مصنوعی ذہانت سے بنائے جانے والے کلپس، تصویریں، افواہیں اور سرحد کے دونوں پار جانی نقصانات کے دعوے عام آدمی کے سیاسی شعور کو مبہم اور ذہنوں کو مفلوج کرنے کے لیے کافی ہیں۔

طرفین کو دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ بھائیوں کے درمیان گلے شکوے معمول کی بات ہے بشرطیکہ کہ کوئی شر پسند درمیان میں حائل نہ ہو۔

افغانستان کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان ہی نہیں تاجکستان، چین اور ایران کو بھی افغانستان سے شدید شکایات ہیں۔ ایسی صورتحال میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے پاک افغان دوستی اس وقت اپنی مثال آپ ہوگی تو بچت ہوگی۔

پاکستان کو بڑے بھائی کی طرح افغانستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اگر افغانستان کی طالبان حکومت حالات کو معمول پر لانا چاہتی ہے تو بہترین اور آسان حل علماء ڈپلومیسی ہے۔

افغانستان کی حکومت کے کم و بیش تمام ذمے داران کا پاکستانی علماء کرام و شیوخ کے ساتھ عقیدت و احترام سے معمور تعلق قائم ہے، وہ یہاں پلے بڑھے اور پڑھے ہیں، پاکستانی مدارس اور تعلیمی اداروں سے انھوں نے تعلیم حاصل کی ہے، یہاں ان کے شیوخ اور اساتذہ موجود ہیں۔

صرف افغانستان کے ذمے داران ہی نہیں، ہر افغان مہاجر کا یہی حال و معاملہ ہے۔ افغانستان کے ذمے داران کو چاہیے کہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان میں اپنے شیوخ، اساتذہ اور علماء کرام سے ملنے کے لیے بھیج دیں، ان کے سامنے دل کھول کر اپنا مدعا، مسائل اور مجبوریاں رکھ دیں۔

یہی شیوخ، اساتذہ اور علماء کرام ہی ہیں جن پر افغانستان کی طالبان حکومت کو اعتماد ہوگا، وہ ان کی بات سن کر درد دل کے ساتھ اپنے ارباب اختیار کے سامنے رکھ کر اس مشکل کا حل نکال لیں گے۔

جب پاکستانی علماء کرام معاملات کو سمجھ کر ارباب اختیار کے سامنے رکھیں گے تو اللہ کریم بہتری کا کوئی راستہ بنا دے گا۔ افغانستان کی حکومت کے ذمے داران، پاکستانی شیوخ کی روحانی اولاد ہیں وہ ان کا مسئلہ پدری درد کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اگر علماء ڈپلومیسی کے ذریعے پاک افغان معاملات کو آگے بڑھایا جائے تو اللہ کریم خیر کے دروازے کھول دے گا، شر کے راستے مسدود کردے گا۔ علماء کرام اپنی بصیرت سے کلمہ طیبہ کے لڑی میں پروئے ہوئے پاک افغان عوام کو شیر و شکر بنا سکتے ہیں کیونکہ لا الہ الا اللہ کا یہ رشتہ خونی رشتوں سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے۔ لہٰذا قدم بڑھائیں یہی پاک افغان کشیدگی کا واحد حل اور چینل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغانستان کے ذمے داران افغانستان کی دونوں ملکوں علماء کرام پاک افغان اس کشیدگی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا