Jasarat News:
2026-07-24@03:23:32 GMT

سندھ ویلفیئر بورڈ کو خیال آہی گیا

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سراج الدین گدیمیں اس مضمون میں 1504فلیٹ جوکہ ٹنڈو محمد خان روڈ پر اربوں روپے سے قائم کیے گئے ہیں کئی شکایتیں تحریر طور پر لیبر منسٹر سندھ ، سیکرٹری ویلفیئر بورڈ کراچی اور ڈپٹی ڈائریکٹر حیدرآباد کو تحریر کیا لیکن کئی شکایت کرنے کے بعد سندھ ورکر ویلفیئر بورڈ کراچی کو خیا ل آگیا اور فلیٹ میں گیس ، لائٹ ، پانی کی سپلائی ، چار دیواری ، اور مرمت کے لیے بجٹ میں رقم مقصوص کی گئی لیکن نسیم نگر قاسم آباد میں ویلفیئر حیدرآباد کا دفتر لیبر ڈپارٹمنٹ کی اوپر کی منزل پر قائم ہے بجٹ میں دفتر کا کام فوری طورپر شروع کر دیا گیا ہے جبکہ ایسا ہونا چاہے تھا کہ فلیٹس ٹنڈو محمد خان روڈ پر اربوں روپے سے جو قائم کیے گئے ہیں کی مرامت پہلے ہونی چاہے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ حیدر آباد بینگل انڈسٹریز ورکر فیڈریشن حیدرآباد کے جنرل سیکرٹری سراج الدین گدی نے اپنے بیان میں کہا کہ حیدرآباد چوڑی فیکٹریوں کی صنعت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں محنت کش لیبر قوانین کی سہولت سے محروم ہے حیدرآبادبینگل انڈسٹریز ورکر فیڈریشن حیدر آباد واحد رجسٹرڈ شدہ فیڈریشن ہے اور چوڑی صنعت سے تعلق رکھنے والی 13فیکٹریوں کی جس کے باقاعدہ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے اور تمام 13یونینیں سی بی اے کی حیثیت سے کام کررہی ہے۔ سی بی اے سرٹیفکیٹ رجسٹرار آف ٹریڈ یونین حیدرآباد ریجن حیدرآباد میں جاری کئے لیکن ان فیکٹریوں پر لیبر قوانین کا اطلاق نہ ہونے کے برابر ہے جس کی شکایت فیڈریشن نے کئی مرتبہ ILO، سیکرٹری لیبر سندھ ، ریجنل ڈائریکٹر حیدرآ باد کو کی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا حیرت کن بات یہ ہے کہ چوڑی فیکٹری کے مالکان نہ تو بھرتی لیٹر دیتے ہیں اور نہ ہی ملازمت سے بر طرف کرنے کا کوئی لیٹر دیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی وجہ بتائی جا تی ہے اسی طرح سے فیکٹری مالکان قانون کے مطابق فیکٹری کا کارڈ بھی جاری نہیں کرتے اسی طرح سے سالانہ 14چھٹی ، میڈیکل 8چھٹی ، اور اتفاقی 10چھٹی اور نہ ہی ہفتے وار چھٹی ورکر کو دی جا تی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سے اجرت کی ادائیگی کا کوئی بھی ریکارڈ مرتب نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح سے EOBIمیں کوئی ورکر رجسٹرڈ نہیں ہے اور نہ ہی EOBIکا کوئی کارڈ ورکر کو جاری کیا جاتا ہے۔ اس طرح سے چوڑی فیکٹری سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کو EOBIسے پنشن نہیں ملتی، اس کی وجہ نہ ان کا رجسٹریشن ہے اور نہ ہی EOBIکا کوئی کارڈ اسی طرح سے سوشل سیکورٹی سندھ حیدرآباد میں کوئی ورکر رجسٹرڈ نہیں ہے اور علاج سہولت سے محروم ہے۔ کارڈ R-5اس وجہ جاری نہیں کیا جاتا کہ ورکر کا سوشل سیکورٹی میں کوئی چندہ بھی نہیں دیا جاتا اس کی باقاعدہ شکایت کمشنر ورکر مین کمنسیشن سندھ اور ڈائریکٹر سوشل سیکورٹی حیدرآباد کو بھی کی گئی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا چوڑی فیکٹریوں کے محنت کش علاج معالجے کی سہولت سے بھی مرحوم ہے، جبکہ فیکٹری کے مالکان نے EOBI اور سوشل سیکورٹی سندھ حیدرآباد میں اپنے رشتے داروں کے نام دئیے ہوئے ہیں اور اس سے ان کے رشتے دار پنشن اور سوشل سیکورٹی کے علاج سے
فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ چوڑی فیکٹریوں میں یہ ملازم نہیں ہے۔ اسی طرح سے چوڑی فیکٹریوں کے محنت کشوں کا ادائیگی کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں رکھا جاتا، اس کی شکایت بھی سیکرٹری لیبر سندھ اور ریجنل ڈائریکٹرحیدرآباد کو کی گئی لیکن اس کا نتیجہ نہ نکلنے کے برابر ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ورکرز کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ریجنل ڈائریکٹر حیدرآباد جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ورکرز کو باقاعدہ لیبر قوانین کے مطابق ریکارڈ اور سہولتیں فراہم کرے لیکن ایسا نہیں ہے چوڑی فیکٹری حیدرآباد کے محنت کش یارو مدد گار زندگی گزار رہے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان فیکٹریوں پر لیبر قوانین کا اطلاق ہی نہیں ہوتا ہے حیدرآبادبینگل انڈسٹریز ورکر فیڈریشن حیدرآباد چوڑی فیکٹری کے محنت کشوں کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کر رہی ہے یہ جدو جہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک چوڑی فیکٹریوں کے محنت کشوں کو لیبر قوانین کے مطابق سہولتیں نہیں مل جاتی ۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوشل سیکورٹی لیبر قوانین ہے اور نہ ہی کیا جاتا کے محنت کا کوئی نہیں ہے ہیں کی

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن