Jasarat News:
2026-06-03@01:09:00 GMT

سندھ ویلفیئر بورڈ کو خیال آہی گیا

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سراج الدین گدیمیں اس مضمون میں 1504فلیٹ جوکہ ٹنڈو محمد خان روڈ پر اربوں روپے سے قائم کیے گئے ہیں کئی شکایتیں تحریر طور پر لیبر منسٹر سندھ ، سیکرٹری ویلفیئر بورڈ کراچی اور ڈپٹی ڈائریکٹر حیدرآباد کو تحریر کیا لیکن کئی شکایت کرنے کے بعد سندھ ورکر ویلفیئر بورڈ کراچی کو خیا ل آگیا اور فلیٹ میں گیس ، لائٹ ، پانی کی سپلائی ، چار دیواری ، اور مرمت کے لیے بجٹ میں رقم مقصوص کی گئی لیکن نسیم نگر قاسم آباد میں ویلفیئر حیدرآباد کا دفتر لیبر ڈپارٹمنٹ کی اوپر کی منزل پر قائم ہے بجٹ میں دفتر کا کام فوری طورپر شروع کر دیا گیا ہے جبکہ ایسا ہونا چاہے تھا کہ فلیٹس ٹنڈو محمد خان روڈ پر اربوں روپے سے جو قائم کیے گئے ہیں کی مرامت پہلے ہونی چاہے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ حیدر آباد بینگل انڈسٹریز ورکر فیڈریشن حیدرآباد کے جنرل سیکرٹری سراج الدین گدی نے اپنے بیان میں کہا کہ حیدرآباد چوڑی فیکٹریوں کی صنعت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں محنت کش لیبر قوانین کی سہولت سے محروم ہے حیدرآبادبینگل انڈسٹریز ورکر فیڈریشن حیدر آباد واحد رجسٹرڈ شدہ فیڈریشن ہے اور چوڑی صنعت سے تعلق رکھنے والی 13فیکٹریوں کی جس کے باقاعدہ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے اور تمام 13یونینیں سی بی اے کی حیثیت سے کام کررہی ہے۔ سی بی اے سرٹیفکیٹ رجسٹرار آف ٹریڈ یونین حیدرآباد ریجن حیدرآباد میں جاری کئے لیکن ان فیکٹریوں پر لیبر قوانین کا اطلاق نہ ہونے کے برابر ہے جس کی شکایت فیڈریشن نے کئی مرتبہ ILO، سیکرٹری لیبر سندھ ، ریجنل ڈائریکٹر حیدرآ باد کو کی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا حیرت کن بات یہ ہے کہ چوڑی فیکٹری کے مالکان نہ تو بھرتی لیٹر دیتے ہیں اور نہ ہی ملازمت سے بر طرف کرنے کا کوئی لیٹر دیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی وجہ بتائی جا تی ہے اسی طرح سے فیکٹری مالکان قانون کے مطابق فیکٹری کا کارڈ بھی جاری نہیں کرتے اسی طرح سے سالانہ 14چھٹی ، میڈیکل 8چھٹی ، اور اتفاقی 10چھٹی اور نہ ہی ہفتے وار چھٹی ورکر کو دی جا تی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سے اجرت کی ادائیگی کا کوئی بھی ریکارڈ مرتب نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح سے EOBIمیں کوئی ورکر رجسٹرڈ نہیں ہے اور نہ ہی EOBIکا کوئی کارڈ ورکر کو جاری کیا جاتا ہے۔ اس طرح سے چوڑی فیکٹری سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کو EOBIسے پنشن نہیں ملتی، اس کی وجہ نہ ان کا رجسٹریشن ہے اور نہ ہی EOBIکا کوئی کارڈ اسی طرح سے سوشل سیکورٹی سندھ حیدرآباد میں کوئی ورکر رجسٹرڈ نہیں ہے اور علاج سہولت سے محروم ہے۔ کارڈ R-5اس وجہ جاری نہیں کیا جاتا کہ ورکر کا سوشل سیکورٹی میں کوئی چندہ بھی نہیں دیا جاتا اس کی باقاعدہ شکایت کمشنر ورکر مین کمنسیشن سندھ اور ڈائریکٹر سوشل سیکورٹی حیدرآباد کو بھی کی گئی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا چوڑی فیکٹریوں کے محنت کش علاج معالجے کی سہولت سے بھی مرحوم ہے، جبکہ فیکٹری کے مالکان نے EOBI اور سوشل سیکورٹی سندھ حیدرآباد میں اپنے رشتے داروں کے نام دئیے ہوئے ہیں اور اس سے ان کے رشتے دار پنشن اور سوشل سیکورٹی کے علاج سے
فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ چوڑی فیکٹریوں میں یہ ملازم نہیں ہے۔ اسی طرح سے چوڑی فیکٹریوں کے محنت کشوں کا ادائیگی کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں رکھا جاتا، اس کی شکایت بھی سیکرٹری لیبر سندھ اور ریجنل ڈائریکٹرحیدرآباد کو کی گئی لیکن اس کا نتیجہ نہ نکلنے کے برابر ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ورکرز کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ریجنل ڈائریکٹر حیدرآباد جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ورکرز کو باقاعدہ لیبر قوانین کے مطابق ریکارڈ اور سہولتیں فراہم کرے لیکن ایسا نہیں ہے چوڑی فیکٹری حیدرآباد کے محنت کش یارو مدد گار زندگی گزار رہے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان فیکٹریوں پر لیبر قوانین کا اطلاق ہی نہیں ہوتا ہے حیدرآبادبینگل انڈسٹریز ورکر فیڈریشن حیدرآباد چوڑی فیکٹری کے محنت کشوں کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کر رہی ہے یہ جدو جہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک چوڑی فیکٹریوں کے محنت کشوں کو لیبر قوانین کے مطابق سہولتیں نہیں مل جاتی ۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوشل سیکورٹی لیبر قوانین ہے اور نہ ہی کیا جاتا کے محنت کا کوئی نہیں ہے ہیں کی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود