ڈینگی کے حملے سے حیدرآباد شہر کا کوئی فرد محفوظ نہیں، ایم کیو ایم
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
حیدر آباد میں اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ قومی اسمبلی وسیم حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم سڑکوں پر آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ افراتفری پھیلا رہے ہیں، بلاول بھٹو اور آصف زرداری سے مطالبہ ہے کہ کرپٹ میئر کو نکال باہر کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ ایم کیو ایم پاکستان کے اراکینِ اسمبلی نے کہا ہے کہ ڈینگی کے حملے سے حیدرآباد شہر کا کوئی فرد محفوظ نہیں، ڈینگی سے اموات پر سرکاری سطح پر کوئی ذمے داری لینے کو تیار نہیں۔ حیدر آباد میں اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ قومی اسمبلی وسیم حسین نے کہا کہ ہر گھر میں 2 سے 3 افراد ڈینگی کا شکار ہیں، شہر میں اگر اسپرے نہیں ہو رہا تو یہ ایچ ایم سی کی ذمے داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سڑکوں پر آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ افراتفری پھیلا رہے ہیں، بلاول بھٹو اور آصف زرداری سے مطالبہ ہے کہ کرپٹ میئر کو نکال باہر کیا جائے۔ وسیم حسین نے کہا کہ میئر کاشف شورو سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں، میئر اور ان کی پوری ٹیم کرپشن میں ملوث ہے۔ اس موقع پر موجود رکنِ سندھ اسمبلی راشد خان نے کہا کہ ہر یوسی چیئرمین کو پہلی تاریخ کو 12 لاکھ روپے ملتے ہیں، کس جماعت کا یوسی چیئرمین اسپرے نہیں کروا رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔