ایک مائنس ہوا تو کوئی بھی باقی نہیں رہے گا،تحریک انصاف
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
حالات کنٹرول میں نہیں آئیں گے، یہ کاروباری دنیا نہیں ہے کہ دو میں سے ایک مائنس کرو تو ایک رہ جائے گا، خان صاحب کی بہنوں پر واٹر کینن کا استعمال کیا گیا،چیئرمین بیرسٹر گوہر
کیا بشریٰ بی بی کی فیملی پریس کانفرنسز کر رہی ہے ان کی ملاقاتیں کیوں نہیں کروا رہے؟ آپ اس مرتبہ فیڈریشن کے یونٹس کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں، میڈیا سے گفتگو
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر ایک مائنس ہوا تو اس کے بعد ایک بھی باقی نہیں رہے گا، حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ کاروباری دنیا نہیں ہے کہ دو میں سے ایک مائنس کرو تو ایک رہ جائے گا، اگر ایک مائنس ہوا تو اس کے بعد ایک بھی باقی نہیں رہے گا، خان صاحب کی بہنوں پر واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، "Enough is enough”۔انہوں نے کہا کہ خان صاحب سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں ہے جو ملاقاتوں کے لیے آتا ہے اس پر واٹر کینن کا استعمال کیا جاتا ہے، اگر وہ دو گھنٹے تک اور بیٹھے رہتے تو ملک اور قوم کا کیا نقصان ہو جاتا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ یہ بہانہ لگا رہے ہیں کہ خان کی ٹویٹ کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو رہی، کیا بشریٰ بی بی کی فیملی پریس کانفرنسز کر رہی ہے ان کی ملاقاتیں کیوں نہیں کروا رہے؟۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کچھ نہیں ہوگا لیکن پھر ایسا ہوگا جو کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوگا، ہم سسٹم کا حصہ اس لیے ہیں تاکہ ملک میں جمہوریت برقرار رہے، ہم اس وقت تین کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز صوبائی اسمبلی میں ایک قرار داد منظور ہوئی ہے، آپ اس مرتبہ فیڈریشن کے یونٹس کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں، آپ پی ٹی آئی پر کیا بین لگانے جا رہے ہیں؟، ابھی تک تو اپ نے سرٹیفیکیٹ ہی نہیں قبول کیا، اگر یہی حالات رہے تو مہینے میں بھی حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کنٹرول میں نہیں بیرسٹر گوہر ایک مائنس نے کہا کہ رہے ہیں
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔