قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ کا اسمارٹ فونز پر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز پر عائد ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے متبادل طریقۂ کار پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران سید نوید قمر نے کہا کہ ایف بی آر گاڑیوں کے بعد موبائل فونز پر بھی غیر معمولی ٹیکس وصول کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اسمارٹ فونز اب لگژری نہیں بلکہ ضرورت بن چکے ہیں، لہٰذا ان پر ٹیکس میں کمی کے لیے اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مؤقف مزید نہیں چل سکتا کہ ملک آئی ایم ایف پروگرام میں ہے، اس لیے ٹیکس کم نہیں ہو سکتا۔
رکن قومی اسمبلی علی قاسم گیلانی نے بھی ایف بی آر کی جانب سے موبائل فونز کی مارکیٹ ویلیو زیادہ مقرر کرنے پر اعتراض اٹھایا۔
اس پر ٹیکس حکام نے جواب دیا کہ اسمارٹ فونز بنیادی طور پر امیر طبقہ استعمال کرتا ہے، اور ٹیکس ماڈل نہیں بلکہ فون کی قیمت کی بنیاد پر عائد کیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمارٹ فونز
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔