تنظیمات اہلسنت نے ٹی ایل پی پر پابندی مسترد کر دی، گرفتار رہنماوں کی رہائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
لاہور میں منعقدہ اجلاس میں رہنماوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی کارروائیوں سے یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ یہ صرف ٹی ایل پی کیخلاف آپریشن نہیں بلکہ پورے اہلِسنت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر اس تاثر کو عملی اقدامات کے ذریعے ختم نہ کیا گیا تو ملک بھر سے سخت ررعمل آئے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ملک بھر کی تمام تنظیماتِ اہلِسنت پاکستان کے اکابرین نے کہا ہے کہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے وعدہ کے باوجود مساجد، مدارس اور خانقاہیں کھولنے، خطباء و علماء کو رہا کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا، بلکہ مزید مساجد و مدارس کو بند کیا جا رہا ہے اور علمائے کرام کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ حکومت اہلِسنت کی مساجد و مدارس کو فوری طور پر کھول کر مقامی کمیٹیوں کے سپرد کرے اور بیگناہ کارکنان کو فوری طور پر رہا کرے۔ پنجاب حکومت کی کارروائیوں سے یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ یہ صرف ٹی ایل پی کیخلاف آپریشن نہیں بلکہ پورے اہلِسنت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر اس تاثر کو عملی اقدامات کے ذریعے ختم نہ کیا گیا تو ملک بھر سے سخت ررعمل آئے گا۔ تحریکِ لبیک پاکستان پر عائد پابندی کو مسترد کرتے ہیں، حکومت ریفرنس سپریم کورٹ میں پیش کرکے پابندی کے جواز کو ثابت کرے۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ مریدکے پر عدالتی کمیشن قائم کیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔ ملک بھر کی تمام اہلِسنت جماعتوں، خانقاہوں، وفاقوں اور اداروں کی مشترکہ مجلسِ شوریٰ کا ہنگامی اجلاس لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی میزبانی سابق وفاقی وزیر سید حامد سعید کاظمی، جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر الوری، آستانہ عالیہ قادریہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ پیر میاں عبدالخالق القادری، پیر آف مانکی شریف پیر زادہ محمد امین قادری نے کی۔ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا کہ حکومت شہداء کی لاشیں ورثاء کے حوالے کرے اور زخمیوں کا بہترین علاج کروائے۔ سانحہ مریدکے میں قادیانی سازش اور مذہبی تعصب پر انکوائری کروائی جائے۔ مینارٹی ایکٹ 2025ء اور نیشنل کمیشن فار مینارٹی کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ ایکٹ قانونِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ اور قانونِ ختمِ نبوت ﷺ کو عملاً غیر مؤثر کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین پر اسرائیلی جارحیت اور پاکستان میں طالبان کی دراندازی کی مذمت کرتے ہیں۔ مودی حکومت کی بریلی شریف میں آپریشن اور شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتی توقیر رضا خان قادری کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی سے منظور ہونے کیا گیا وقف بل مسترد کرتے ہیں حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ اہلِسنت پاکستان کے 80 فیصد ہیں، ان کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ 25 جنوری2026 کو مینار پاکستان لاہور میں ملک گیر سنی کانفرنس ہوگی۔ اجلاس میں سابق وفاقی وزیر مذہبی امور پیر محمد امین الحسنات شاہ، سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی، سابق ممبر قومی اسمبلی و جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر الوری، سابق ممبر قومی اسمبلی و آستانہ عالیہ شرقپور شریف صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری، مرکزی جماعت اہلِسنت پاکستان کے امیر پیر میاں عبدالخالق القادری، پاکستان سنی تحریک کے سربراہ انجینئر ثروت اعجاز قادری، انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر فیصل قیوم ماگرے، عوامی تحریک پاکستان کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور، جماعتِ اہلِسنت کے مرکزی ناظم اعلیٰ پیر خالد سلطان قادری، سنی تحریک کے سربراہ شاداب رضا نقشبندی، جمعیت علمائے پاکستان کی سپریم کونسل کے چیئرمین قاری زوار بہادر، محمد اکرم رضوی اور دیگر نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے جا رہا ہے کرتے ہیں کیا گیا ملک بھر اہل سنت کیا جا نے کہا
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔