پاک بھارت جنگ کے دوران 7 نئے خوبصورت طیارے مار گرائے گئے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ کے دوران 7 بالکل نئے اور خوبصورت طیارے مار گرائے گئے، دونوں ملک ایٹمی طاقت ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بات ٹوکیو میں بزنس لیڈر سے خطاب میں کہی، انہوں نے کہا کہ زیادہ تر جنگیں ٹیرف کی مدد سے رکوائیں اور اسطرح انہوں نے دنیا کی بہت خدمت کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان میں فیلڈ مارشل سے کہا کہ اگر آپ نے جنگ کی تو امریکا آپ سے تجارت نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں نیوکلیئر ڈسٹ ہر طرف پھیلتی، سب متاثر ہوتے اور امریکا نے ان پر واضح کیا کہ اگر جنگ کی تو ہم تجارتی معاہدے نہیں کریں گے اور اسطرح چوبیس گھنٹے میں معاملہ ختم ہوگیا۔
ٹر،پ نے کہا کہ یہ حقیقت میں حیران کن تھا اور ہم نے ایسے کئی اقدامات کیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگیں روکنے میں ستر فیصد حصہ تجارت کا ہے، ہم نے اپنا دماغ استعمال کیا کیونکہ وہ ہم سے تجارت چاہتے ہیں اور حیران کن تھا کہ کتنی جلدی وہ امریکا کے ساتھ معاہدوں کے قابل ہوگئے۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ 10برسوں تک لڑتے رہتے اور اس میں لاکھوں لوگ مارے جاتے، ہم خوش ہیں کہ جنگ روک دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔