3 سالوں میں ملک میں بے روزگاری کی شرح میں انتہائی تشویش ناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جولائی2025ء) 3 سالوں میں ملک میں بے روزگاری کی شرح میں انتہائی تشویش ناک اضافہ، عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد 3 سالوں میں ملک میں بے روزگاری کی شرح میں 250 فیصد اضافہ ہو جانے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اور معروف ماہر معیشت نے ملک معیشت سے متعلق تشویش ناک انکشاف کیا ہے۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق پاکستان میں اس وقت بیروزگاری کی شرح 22 فیصد ہو چکی ہے جو بیروزگاری کے اعتبار سے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے جبکہ عمران خان کے دور حکومت میں یہ شرح صرف 6.
(جاری ہے)
3 سال پی ڈی ایم حکومت کے بعد ملک کا قرض 75000 ارب روپے ہو چکا ہے ۔31 ہزار 3 سو ارب روپے کا قرضہ صرف تین سالوں میں لیا گیا اور بجٹ میں بھی پی ڈی ایم حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کی کوئی خاص گنجائش نہیں ہے۔
دوسری جانب حکومت کے اپنے اقتصادی سروے کے مطابق ملکی قرضوں کا حجم 76 ہزار ارب روپے کی سطح کو عبور کر گیا، یعنی 3 سالوں میں ملکی قرضوں میں ساڑھے 32 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔ حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں 76007 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ پیر کو جاری قومی اقتصادی سروے 2024-25ء کے مطابق مارچ کے اختتام تک حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم 76007 ارب روپے ہو گیا جس میں ملکی قرضوں کا حجم 51518 ارب روپے اور بیرونی قرضوں کا حجم 24489 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں سرکاری قرضوں پر سود کی ادائیگی کا حجم 6439 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جس میں 5783 ارب روپے ملکی اور 656 ارب روپے بیرونی قرضوں پر ادا کیا گیا۔ اس مدت میں حکومت نے ایک ٹریلین روپے کی حکومتی سکیورٹیز کی خریداری کی۔ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں 1.6 ٹریلین روپے کے شریعہ کمپلائنس سکوک جاری کئے گئے۔ اقتصادی سروے کے مطابق اس مدت میں مجموعی طور پر 5.1 ارب ڈالر کی بیرونی معاونت موصول ہوئی جس میں 2.8 ارب ڈالر کثیر الجہتی شراکت داروں اور 0.3 ارب ڈالر دوطرفہ شراکت داروں نے فراہم کئے۔ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ سے 1.5 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں سے 0.56 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کئے گئے۔ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پاکستان کو 1.03 ارب ڈالر کی معاونت موصول ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سالوں میں ملک قرضوں کا حجم ملکی قرضوں ارب ڈالر حکومت کے کے مطابق ارب روپے کی شرح
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا۔
اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا، جس کے بعد ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر نئے نرخ نافذ ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی قیمتیں ایک نظر میں
پیٹرول: 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر (4.40 روپے اضافہ)
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر (3.62 روپے اضافہ)
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قیمتیں آئندہ حکم نامے تک نافذ العمل رہیں گی۔