نئی اسامیوں کی تخلیق اور گاڑیوں کی خریداری پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک : خیبرپختونخوا حکومت نے نئے مالی سال کے لیے کفایت شعاری اقدامات جاری کردیئے، نئی آسامیوں کی تخلیق اورگاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی۔
صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کفایت شعاری اقدامات کے مطابق مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے وزیراعلیٰ کی منظوری سے مطلوبہ آسامیوں کے قیام کی منظوری دی جائے گی،ایمبولینس، فائر بریگیڈ، ٹریکٹرز، مسافربسوں، ریسکیو گاڑیوں، کشتیوں اور قیدیوں کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد نہیں ہوگی، دیگر تمام ہرقسم کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد ہوگی۔
حفیظ سنٹر لاہور میں فائر ریسکیو آپریشن ؛ سیکرٹری ایمرجنسی سروسز کا فائر فائٹرز کو خراج تحسین
اقدامات کے مطابق اراکین صوبائی اسمبلی کے علاوہ دیگر کے سرکاری اخراجات پر دیگر ممالک میں ورکشاپس اور تربیتی پروگراموں میں شرکت پر پابندی عائد کردی گئی، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں سرکاری اخراجات پر سیمینارز اور ورکشاپس کے انعقاد پر پابندی عائد ہوگی۔
سرکاری اخراجات پر بیرون ملک علاج و معالجے پر پابندی عائد ہوگی، محکمہ خزانہ کی پیشگی اجازت کے بغیر چھٹی پر گئے کسی ملازم کی اسامی پر تقرری نہیں کی جائے گی
شکر گڑھ میں درمیانے درجے کا سیلاب، زمینی رابطہ منقطع
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گاڑیوں کی خریداری پر پابندی پر پابندی عائد
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔