کيا بھارت سے دوبارہ جنگ کا کوئی خطرہ ہے؟ رانا ثناء اللہ نے بتاديا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ دوبارہ جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے، پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور اس کے پاس میزائل ہیں۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور جنگ پاکستان، انڈیا اور دنیا کسی کو بھی قابل قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کی حکومت نے جنگ کے ذریعے مقامی سیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتا تھی لیکن اب ہماری طرف سے منہ توڑ جواب دیا گیا اس لیے وہ دوبارہ جرات نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت نیو نارمل قائم کرنا چاہتا ہے مگر یہ کسی کے مفاد میں نہیں، بلاول بھٹو
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انڈیا کا خیال تھا کہ روایتی جنگ میں ہم پاکستان سے مضبوط ہیں لیکن ہم نے منہ توڑ جواب دے دیا۔ موجودہ بیان بازی سیاسی مفاد کے لیے ہورہی ہے لیکن وہ جنگ کی جرات نہیں کرسکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوبارہ جرات کی تو دوبارہ اسی طرح جواب ملے گا اور بھارت کو مزید حزیمت ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ بھارت آن دی ریکارڈ مذاکرات کرے گا کیوں کہ اس کی سیاسی قیمت ہوگی جو نریندر مودی نہیں چکا سکتی، البتہ بھارت پاکستان کے ساتھ آف دی ریکارڈ مذاکرات کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔