ہانیہ عامر کے ٹیلنٹ سے خوفزدہ بھارتیوں کو بشریٰ انصاری نے للکار دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
پاکستانی انڈسٹری کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے اپنے تازہ ویلاگ میں ہانیہ عامر کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے بھارتیوں کے رویے پر سوال اٹھا دیے۔
بشریٰ انصاری نے نہ صرف ہانیہ کےلیے بھارتیوں کے منفی ردعمل کو نشانہ بنایا بلکہ جاوید اختر اور نریندر مودی کو بھی نہیں بخشا۔
ہانیہ عامر اس وقت بھارتی پنجابی گلوکار دلجیت دوسانجھ کے ساتھ فلم ’سردار جی 3‘ کی وجہ سے چرچوں میں ہیں، بشریٰ انصاری نے اپنے یوٹیوب چینل پر ہانیہ کو سراہتے ہوئے کہا ’’ہانیہ ایک پروفیشنل اداکارہ ہے جو ہر حالات میں اپنے کام سے مخلص ہے۔ گرمی ہو یا سردی، وہ اپنی پرفارمنس سے سمجھوتہ نہیں کرتی۔‘‘
بشریٰ نے بھارتی مداحوں کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ہانیہ نے فلم سائن کی تو سب ٹھیک تھا، اب کیوں بچگانہ رویہ؟ کیا ایک نوجوان لڑکی سے آپ کو خطرہ محسوس ہوا؟ انہوں نے ماضی میں فواد خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو بھی یاد دلایا۔
اداکارہ نے سیاست کو بھی نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ’’مجھے یقین ہے کہ پہلگام کا واقعہ جان بوجھ کر کروایا گیا تھا، کیونکہ مودی جی نہیں چاہتے کہ بھارت اور پاکستان مل کر کچھ کریں۔‘‘
بشریٰ انصاری نے جاوید اختر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’’ہم لتا منگیشکر جی کو کیوں نہیں بلا سکتے تھے؟ شاید ہم انہیں افورڈ نہیں کرسکتے تھے، لیکن وہ ہمیشہ لیجنڈ رہی ہیں۔ ایسی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔‘‘
سینئر اداکارہ کے اس ویلاگ کو سوشل میڈیا پر بے حد پذیرائی مل رہی ہے، جہاں صارفین ان کی کھری کھری باتوں کی تعریف کر رہے ہیں، وہیں ہانیہ عامر، جو 18 ملین سے زائد انسٹاگرام فالوورز کے ساتھ پاکستان اور بھارت دونوں میں مقبول ہیں، بشریٰ انصاری جیسی سینئر اداکارہ کی تعریف کو اپنے کیرئیر کےلیے اہم قرار دے رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔