پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ: سعود شکیل کی کپتانی میں اسکواڈ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان ٹیم کے انگلینڈ دورے کے لیے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ ٹیم اگلے 2 برسوں میں کب اور کہاں کھیلے گی؟
قومی ٹیم 17 جولائی سے 6 اگست تک انگلینڈ میں 3 ایک روزہ میچز کھیلے گی جبکہ وہ 3 روزہ میچوں میں بھی حصہ لے گی جن کی تعداد 2 ہوگی۔ میچز کی تاریخیں اور مقامات بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
سعود شکیل کو اس اسکواڈ کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ 3 اور ٹیسٹ کرکٹرز بھی ہوں گے جن میں میر حمزہ (7 ٹیسٹ)، موسیٰ خان اور ساجد خان شامل ہوں گے۔
اس اسکواڈ میں 2 ابھرتے ہوئے بیٹسمین ازان اویس اور معاذ صداقت بھی شامل ہیں جو کہ قائداعظم ٹرافی 2024-25 میں بالترتیب سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی تھے۔
مزید پڑھیے: گیری کرسٹن نے پاکستان کرکٹ ٹیم سے علیحدگی کی اصل وجوہات بتا دیں
بیٹنگ لائن اپ میں علی زریاب، حیدر علی، محمد سلیمان، عمیر بن یوسف اور شامیل حسین شامل ہیں۔ روہیل نذیر وکٹ کیپر کے طور پر ٹیم میں شامل ہیں۔
پاکستان کے تیز گیند بازوں میں مشتاق احمد شامل ہیں جنہوں نے حالیہ دونوں فرسٹ کلاس مقابلوں (قائداعظم ٹرافی اور پریذیڈنٹ ٹرافی) میں 77 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے ساتھ فاٹا کے تیز گیند باز شاہد عزیز اور عبید شاہ بھی موجود ہوں گے۔
مزید پڑھیں: مائیک ہیسن پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے وائٹ بال ہیڈ کوچ مقرر
اسکواڈ میں اسپن بولنگ کے لیے فصیل اکرم (رِسٹ اسپنر)، مہرن ممتاز (لیفٹ آرم اسپنر) اور مبسسر خان (آف اسپن آل راؤنڈر) بھی شامل ہیں جبکہ ساجد خان کا تجربہ اسکواڈ کو مزید مستحکم کرے گا۔
ٹریکنگ کیمپ اور روانگیپاکستان شاہینز کا اسکواڈ کراچی کے حنیف محمد ہائی پرفارمنس سینٹر میں ایک تربیتی کیمپ میں شرکت کرے گا اور 16 جولائی کو انگلینڈ روانہ ہو جائے گا۔
اسکواڈسعود شکیل (کپتان)، علی زریاب، اذان اویس، فیصل اکرم، حیدر علی، معاذ صداقت، مہران ممتاز، میر حمزہ، محمد سلیمان، مبصر خان، موسیٰ خان، مشتاق احمد، عمیر بن یوسف، روحیل نذیر (وکٹ کیپر)، شاہ حسین شاہ، عزیز خان، عزیر خان اور عزیر خان۔
پلیئر سپورٹ اہلکارعمران فرحت (ہیڈ کوچ)، ریحان ریاض (بولنگ کوچ)، محتشم رشید (فیلڈنگ کوچ)، عثمان ہاشمی (تجزیہ کار) اور علی سفیان (فزیو)۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کرکٹ ٹیم پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان پی سی بی سعود شکیل کپتان مقرر قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کرکٹ ٹیم پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان پی سی بی سعود شکیل کپتان مقرر قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ پاکستان کرکٹ ٹیم سعود شکیل شامل ہیں
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز