data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: خیبر پختونخوا کی سیاست میں غیر معمولی ہلچل پیدا ہوگئی، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) میں بلور خاندان سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیت نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی۔

میڈیا ذرائع کے مطابق صوبائی اسمبلی کی سابق رکن اور شہید ہارون بلور کی اہلیہ ثمر بلور نے پاکستان مسلم لیگ ن میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی ہے، جسے خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں ن لیگ کے لیے ایک بڑی کامیابی اور اے این پی کے لیے دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

ثمر بلور نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب وہ کافی عرصے سے اے این پی کی سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کر چکی تھیں۔

ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت سے اختلافات نے ان کے اندر ناراضی پیدا کی، جس کا نتیجہ بالآخر پارٹی چھوڑنے کی صورت میں سامنے آیا۔ چند ماہ قبل ان کے حوالے سے یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتی ہیں، تاہم اب انہوں نے مسلم لیگ ن کا انتخاب کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف سے ان کی حالیہ ملاقات اس سیاسی پیش رفت کی علامت بنی، جس میں ثمر بلور نے باضابطہ طور پر ن لیگ میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی شمولیت کا سرکاری اعلان وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے جلد جاری کیا جائے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ن لیگ کی قیادت نے خیبر پختونخوا میں اپنی کمزور موجودگی کو بہتر بنانے کے لیے بلور خاندان جیسے بااثر سیاسی گھرانے سے رابطہ کر کے ایک اہم چال چلی ہے، جس کا اثر آنے والے انتخابات میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

ثمر بلور جو 2018 کے عام انتخابات میں اپنے شوہر ہارون بلور کے انتخابی حلقے سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں، سیاسی میدان میں کافی سرگرم رہی ہیں۔ ان کی سیاست میں موجودگی شہید ہارون بلور کی قربانی کے تسلسل کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ ان کے اس فیصلے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اے این پی کے اندرونی اختلافات اب محض قیاس نہیں بلکہ حقیقت بن چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بلور خاندان کی تمام شخصیات اس سیاسی تبدیلی کا حصہ نہیں بنیں۔ سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر حاجی غلام احمد بلور نے واضح کیا ہے کہ وہ بدستور عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔

ان کے قریبی ذرائع کے مطابق حاجی غلام بلور کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے لیے قربانیاں دی ہیں اور وہ پارٹی نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا موقف ہے کہ وہ اے این پی کے نظریات کے ساتھ جڑے رہیں گے اور اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

یہ پیش رفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب شہید ہارون بلور کی ساتویں برسی منائی جا رہی ہے۔ جولائی 2018 میں انتخابی مہم کے دوران خودکش حملے میں ان کی شہادت ہوئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق بلور خاندان ہارون بلور اختیار کر اے این پی ثمر بلور بلور نے کے لیے

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا