کوالالمپور(ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کابل جاکر چائےپینے اور دہشتگردوں کیلئے سرحد کھولنے سے نقصان ہوا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کوالالمپور میں پاکستانی کمیونٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر ڈالنا ہمارا عزم ہے،دہشتگردی کا سب سے زیادہ شکار ہم ہیں،بھارت نے پلوامہ واقعے کا الزام بھی پاکستان پر لگایا تھا،دنیا پلوامہ واقعہ کی حقیقت جان گئی تو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت بدل دی۔

نائب وزیراعظم نے کہاکہ پہلگام واقعہ پر پاکستان نے بھارت کو غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیش کش کی،پہگام واقعہ میں بھارت نے جو اقدامات ہمارے خلاف کئے ہم نے بھی ویسے ہی جواب دیا،سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر ہم نے جواباً بھارتی پروازوں کیلئے اپنی فضائی حدود بند کردی،7مئی کو جو کچھ ہوا دنیانے دیکھا، ہمارا میزائل پروگرام پاکستان کی ڈھال ہے،ہمارے بہادر پائلٹوں نے بھارت کے 6طیارے مار گرائے،6طیاروں میں سے 4وہ رفال طیارے تھے جن کے بارے میں مودی نے کہا تھا وہ ہوتے تو نتیجہ مختلف  ہوتا۔ 

کامران اکمل نے ٹیم سلیکشن کے غیر شفاف عمل پر سوال اٹھا دیے

انہوں نے کہاکہ ہم نے اس بار بھارت کا بیانیہ بننے ہی نہیں دیا، بھارتی  بیانیے کو عالمی سطح پر پذیرائی نہیں ملی، بھارت اب دنیا میں تنہائی کا شکار ہے،پاکستان کے سفارتی تنہائی کا شکار ہونے کے دعوے غلط ثابت ہوئے۔

اسحاق ڈار کاکہناتھا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے عجیب حرکت کی، بھارت نہ پاکستان کا پانی روک سکتا ہے اور نہ رخ موڑ سکتا ہے، بھارت کی جانب سے کئے گئے اقدامات پر ہم نے بھرپور جواب دیا، ہم نے گزشتہ سال ایس سی او سربراہ کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا،لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں کانفرنس منعقد کی،پاکستان 2سال کیلئے سلامتی کونسل کا صدر منتخب ہوا، ہم روایتی نہیں اقتصادی سفارتکاری پر عمل پیرا ہیں،پالیسی ریٹ، افراط زر میں نمایاں کمی ہوئی ہے،حکومتی کوششوں سے معاشی معاملات بہتری کی طرف جارہے ہیں،ان کاکہناتھا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں،پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان مضبوط روابط قائم ہیں،پاکستان نے مشکل معاشی حالات میں ٹیک آف کیا،آج معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے،پاکستان کو جی 20میں شامل کرنا ہمارا ہدف ہے،بیرون ملک مقیم پاکستان کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے۔

ٹرمپ نے کینیڈا پر 35 فی صد درآمدی ٹیکس عائد کر دیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار بھارت نے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار