اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر کی تدفین لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤں کے قبرستان میں کردی گئی جہاں اُن کے چچا نے میڈیا سے گفتگو میں کئی انکشافات کیے۔

 ایکسپریس نیوز کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں حمیرا کے چچا محمد علی نے بتایا کہ حال ہی میں میری بہن کا انتقال ہوا تھا اور ہم سب بہت دکھ اور رنج کی حالت میں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ حمیرا سے کافی عرصے سے رابطہ نہیں تھا اور ہمیں اُس کے گھر کے بارے میں بھی کچھ پتا نہیں تھا۔

حمیرا کے چچا نے مزید بتایا کہ وہ شوبز میں نام کمانا چاہتی تھی، اسی لیے کراچی گئی تھی لیکن والدین اس فیصلے سے خوش نہیں تھے۔

چچا محمد علی نے بتایا کہ کبھی کبھار فون پر رابطہ ہوجاتا تھا اور وہ ہر دو تین ماہ بعد جب بھی لاہور آتی تھی تو اپنے والدین سے ضرور ملتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ لیکن جب سے اس کا فون بند ہوا تو ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔ ہمیں اس کے گھر کا بھی اتا پتا معلوم نہیں تھا۔

حمیرا کے چچا نے سوشل میڈیا پر زیر گردش خبر کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اداکارہ کا اپنے والدین سے جائیداد کے معاملے پر کوئی جھگڑا تھا۔

یاد رہے کہ اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کراچی کے علاقے ڈیفنس سے ان کے فلیٹ سے ملی تھی جہاں وہ 2018 سے کرائے پر اکیلی رہ رہی تھیں۔

اداکارہ کا ستمبر 2024 سے کسی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا اور مالک مکان نے بھی فلیٹ خالی کروانے کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا تھا۔

عدالت کے حکم پر جب بیلف فلیٹ خالی کروانے پہنچا تو بارہا دستک کے باجود دروازہ نہیں کھولا گیا۔ جس پر دروازہ توڑنا پڑا۔

جیسے ہی درواز ٹوٹا بدبو کا ایک بھپکا محسوس ہوا اور اداکارہ کی گلی سڑی لاش فرش پر پڑی ہوئی ملی۔ جو تقریباً 8 ماہ پرانی تھی۔

ابتدا میں ان کے اہل خانہ نے لاش وصول کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم بعد میں پولیس کی درخواست پر ان کے بہنوئی اور بھائی لاش لینے کراچی پہنچے تھے۔

اداکارہ حمیرا اصغر ڈرائنگ اور آرٹ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک ماہر مصورہ اور مجسمہ ساز بھی تھیں۔ اُن کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 7 لاکھ سے زائد تھی۔

اداکارہ شوبز کی دنیا میں نام کمانے کے لیے لاہور سے کراچی منتقل ہوئی تھیں۔ انھوں نے تماشا گھر اور فلم جلیبی (2015) سے شہرت حاصل کی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حمیرا کے چچا کے چچا نے نہیں تھا تھا اور

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا