data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: دنیا بھر میں ائیر لائنز کی مختلف غلطیاں سامنے آتی رہتی ہیں لیکن پاکستانی نجی ائیرلائن نے تو لاہور سے کراچی کے ڈومیسٹک مسافر کو پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر ہی جدہ پہنچا دیا۔

کراچی کے رہائشی ملک شاہ زین احمد نے بتایا کہ وہ فیکٹری کے معاملات کے سلسلے میں ایک ماہ تک لاہور میں تھا۔ 7 جولائی کو وہ واپس کراچی جا رہا تھا اور نجی ائیرلائن کی پرواز پی ایف 144 سے ٹکٹ حاصل کی۔وہ علامہ اقبال ائیرپورٹ پہنچے، بورڈنگ پاس لیا، گیٹ نمبر 13 سے بس کے ذریعے رن وے پرکھڑے جہاز میں سوار ہونےکے لیے پہنچے، جہاں ائیر لائن کے دو جہاز قریب قریب کھڑے تھے، رات ہونےکی وجہ سے دیگر مسافروں کے ساتھ ایک جہاز میں سوار ہو گیا۔

ملک شاہ زین کے مطابق پرواز روانہ ہوئی تو اندازے سے اسے سوا گھنٹے میں کراچی پہنچ جانا تھا۔ سوا گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ اور پھر دو گھنٹے تک جہاز مسلسل پرواز کرتا رہا، لینڈنگ نہ ہوئی تو اسے تشویش ہوئی، اس نے عملے سے پوچھا کہ دو گھنٹے گزر گئے جہاز کراچی میں کیوں نہیں اترا؟ جس پر عملے کو تشویش ہوئی اور انہوں نے اس کا بورڈنگ پاس دیکھا تو وہ لاہور سےکراچی کی پرواز کا تھا۔ جس پر عملے میں کھلبلی مچ گئی تاہم اب کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ جہاز پاکستان کی فضائی حدود سے گزر چکا تھا لہٰذا مسافر کو جدہ اتارا گیا، وہاں پر بھی مسافر سے پوچھ گچھ کی گئی۔

مسافرکو واپس 8 جولائی کو جدہ سے لاہور کی پرواز پی ایف 717 میں سوار کرکے واپس لاہور پہنچایا گیا، جہاں پر امیگریشن اور دیگر حکام نے پوچھ گچھ کی مگر قصور مسافر کا نہ تھا، جس پر مسافر کو 8 جولائی کو لاہور سے کراچی کی پرواز پی ایف 146 میں سوار کرا کر دو دن بعد منزل تک پہنچادیا گیا۔

یہ معمولی نہیں فاش غلطی ہے، غلطی اگر مسافر کی بھی ہو مگر ہوا بازی، سکیورٹی اور دیگر سنگین نظام پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

دوسری جانب ترجمان پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے مطابق کراچی کے مسافر کے جدہ پہنچ جانے کے دلچسپ معاملے کا حکام نے نوٹس لے لیا ہے۔

ترجمان کے مطابق ریگولیٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسٹیشن منیجر کو خط ارسال کردیا گیا ہے۔

خط میں شہری ہوا بازی کی ریگولیٹر سے غفلت کی مرتکب ائیرلائن کو بھاری جرمانے کی استدعا کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی پرواز میں سوار

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی