پاسپورٹ نہ ویزا، لاہور سے کراچی جانے والا مسافر جدہ پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
—علامتی تصویر
دنیا بھر میں ایئر لائنز کی مختلف غلطیاں تو سامنے آتی رہتی ہیں لیکن پاکستان کی نجی ایئر لائن نے لاہور سے کراچی کے ڈومیسٹک مسافر کو پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر جدہ پہنچا دیا۔
کراچی کے رہائشی مسافر ملک شاہ زین نے بتایا ہے کہ وہ فیکٹری کے معاملات کے سلسلے میں ایک ماہ تک لاہور میں تھا، 7 جولائی کو وہ واپس کراچی جا رہا تھا جس کے لیے نجی ایئر لائن پرواز سے ٹکٹ حاصل کیا۔
مسافر کے مطابق وہ علامہ اقبال ایئر پورٹ پہنچا، بورڈنگ پاس لیا، بس کے ذریعے میدان میں کھڑے جہاز میں سوار ہونے کے لیے پہنچا، جہاں ایئر لائن کے 2 جہاز قریب قریب کھڑے تھے، رات ہونے کی وجہ سے دیگر مسافروں کے ساتھ ایک جہاز میں سوار ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیے ریاض سے لاہور کی غیرملکی پرواز میں سوار پاکستانی مسافر کی طبیعت خراب، مسقط میں ہنگامی لینڈنگمسافر نے بتایا ہے کہ پرواز روانہ ہوئی تو اندازے سے اسے سوا گھنٹے میں کراچی پہنچ جانا تھا، تاہم طیارہ سوا گھنٹے، ڈیڑھ گھنٹے اور پھر 2 گھنٹے تک مسلسل پرواز کرتا رہا، لینڈنگ نہ ہوئی تو مجھے تشویش ہوئی، عملے سے پوچھا کہ 2 گھنٹے گزر گئے جہاز کراچی میں کیوں نہیں اترا، جس پر عملے کو تشویش ہوئی اور انہوں نے بورڈنگ پاس دیکھا تو وہ لاہور سے کراچی کی پرواز کا تھا، جس پر عملے میں کھلبلی مچ گئی تاہم کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ جہاز پاکستان کی فضائی حدود سے گزر چکا تھا، لہٰذا مسافر کو جدہ اتارا گیا وہاں پر بھی مسافر سے پوچھ گچھ کی گئی۔
مسافر کو واپس 8 جولائی کو جدہ سے لاہور کی پرواز میں سوار کر کے واپس لاہور پہنچایا گیا، جہاں پر امیگریشن اور دیگر حکام نے پوچھ گچھ کی مگر قصور مسافر کا نہیں تھا، جس پر مسافر کو لاہور سے کراچی کی پرواز میں سوار کرا کے 2 دن بعد منزل تک پہنچایا گیا۔
نجی ایئر لائن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسافر کی پرواز کا طیارہ تبدیل ہو جانا غلط فہمی کی بنا پر ہوا، لاہور ایئر پورٹ پر تعمیراتی کام چل رہا ہے، 8 جولائی کو رات 10 بجے کراچی اور جدہ کی پروازیں ایک ہی وقت آپریٹ ہو رہی تھیں] جس کے باعث مسافر غلطی سے ڈومیسٹک فلائٹ کی بجائے انٹرنیشنل فلائٹ کی طرف چلا گیا۔
ترجمان پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی کے مطابق نجی ایئر لائن کے کراچی کے مسافر کے دوسری پرواز سے جدہ پہنچ جانے کے معاملے کا حکام نے نوٹس لے لیا ہے اور اس حوالے سے ریگولیٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسٹیشن منیجر کو خط ارسال کر دیا گیا ہے۔
خط میں شہری ہوا بازی کی ریگولیٹر سے غفلت کی مرتکب ایئر لائن پر بھاری جرمانے کی استدعا کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لاہور سے کراچی نجی ایئر لائن مسافر کو میں سوار کی پرواز
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔