خصوصی افراد کو ڈرائیونگ کی تربیت اور لائسنس دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی خصوصی افراد کےلیے ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کی ہدایت پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ نے افتتاحی تقریب میں خصوصی افراد کو ڈرائیونگ لائسنس دینے کے اقدامات کرنے کی ہدایت دی تھی۔
اسی سلسلے میں آج NOWPDP ٹیم نے ڈی آئی جی ڈرائیونگ لائسنس یونس چانڈیو کے دفتر کلفٹن کا دورہ کیا، جہاں ٹیم کی ڈی ایس پی ڈرائیونگ لائسنس فہیم اور دیگر افسران سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر خصوصی افراد کے ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا پر مشاورت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ تربیت اور ریٹروفٹڈ رکشوں کے ذریعے خصوصی افراد کو سہولت فراہم کی جائے گی۔
پاکستان میں مشرق ڈیجیٹل بینک کا آغاز، امارات سے پاکستانی مفت ترسیلات زر بھیج سکیں گے
ڈی آئی جی ڈرائیونگ لائسنس یونس چانڈیو نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور خصوصی افراد کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا میں زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈرائیونگ لائسنس خصوصی افراد
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔