اسلام آباد پولیس کا سرکاری ملازمین کے لیے ڈرائیونگ لائسنس مہم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی ہدایت پر اسلام آباد ٹریفک پولیس نے سرکاری ملازمین کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کی خصوصی مہم کا آغاز کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں ڈیجیٹل ڈرائیونگ لائسنس متعارف : اپلائی کیسے کریں، فیس کتنی ہوگی؟
سی ٹی او اسلام آباد کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں کے مطابق یہ مہم 17 سے 26 ستمبر تک جاری رہے گی جس دوران سرکاری ملازمین کو ٹریفک دفاتر اور موبائل وینز پر تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں، لہٰذا بطور سرکاری ملازم سب سے پہلے احتساب ہمیں خود سے کرنا ہوگا۔
سی ٹی او نے خبردار کیا کہ 26 ستمبر کے بعد بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والوں کیخلاف بلا تفریق کارروائی ہوگی جس میں گاڑی بند کرنے کے ساتھ محکمانہ کارروائی بھی شامل ہوگی۔
Islamabad Traffic Police (ITP) on Wednesday launched a special campaign, running from September 17 to 26, to facilitate government employees in obtaining their driving licenses.
— APP (@appcsocialmedia) September 17, 2025
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازم کسی بھی ادارے یا رینک کا ہو، قانون سب پر یکساں لاگو ہوگا۔
حمزہ ہمایوں نے مزید کہا کہ ٹریفک پولیس کے تمام دفاتر اور وسائل سرکاری ملازمین کی معاونت کے لیے دستیاب ہیں، اس اقدام کا مقصد ٹریفک نظام کی بہتری اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد ڈرائیونگ لائسنس سی ٹی او اسلام آباد
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد ڈرائیونگ لائسنس سی ٹی او اسلام آباد ڈرائیونگ لائسنس سرکاری ملازمین اسلام آباد کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔