ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے لائسنس منسوخی کے لیے ریفرنس دائر
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
ایڈووکیٹ ایمان مزار کے خلاف لائسنس منسوخی کا ریفرنس دائر کردیا گیا۔
یہ خبر بھی پڑھیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ایمان مزاری سے متعلق ریمارکس پر وضاحت
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد بار کونسل میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف لائسنس منسوخی کا ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے بحث، ایمان مزاری نے کمرہ عدالت کی فوٹیج مانگ لی
ایڈووکیٹ عدنان اقبال کی جانب سے دائر ریفرنس میں ایمان مزاری پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف ہراسمنٹ کمیٹی میں شکایت جمع کروادی
ریفرنس میں استدعا کی گئی ہے کہ ایمان مزاری کا مستقل وکالت کا لائسنس منسوخ کیا جائے اور ان کے خلاف باضابطہ انکوائری کی جائے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: ای سی ایل کیس میں ایمان مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش نہیں ہوئیں، سماعت ملتوی
واضح رہے کہ آج ای سی ایل کیس میں ایمان مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش نہیں ہوئیں، جس پر عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اسلام آباد
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔