چھبیس ستمبر تک پلاٹوں کی قرعہ اندازی نہ کی گئی تو مزدور یونین احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی: چوہدری محمد یٰسین
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
چھبیس ستمبر تک پلاٹوں کی قرعہ اندازی نہ کی گئی تو مزدور یونین احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی: چوہدری محمد یٰسین WhatsAppFacebookTwitter 0 16 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )سی ڈ ی اے انتظامیہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ملازمین کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی نہیں کر رہی جس کی وجہ سے ملازمین میں سخت بے چینی پائی جارہی ہے،سی ڈی اے مزدور یونین مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور پلاٹوں کے معاملے پر انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن 26ستمبر تک اگر ملازمین کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی نہ کی گئی تو سی ڈی اے مزدور یونین ڈائریکٹوریٹ سطح پر احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی،
ان خیالات کا اظہار سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یٰسین نے چیئرمین آفس کے باہرمنعقدہ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں سی ڈ ی اے کی تمام ڈائریکٹوریٹس کے ہزاروں ملازمین نے بھرپور شرکت کی،چوہدری محمد یٰسین نے کہا کہ اسلام آباد جو بین الاقوامی سطح کا خوبصورت شہر ہے اس کوسی ڈی اے کے ملازمین نے اپنے خون اور پسینے سے تعمیر کیا ہے لیکن بدقسمتی سے ان ملازمین کو جو ان کا بنیادی حق ہے عدالتوں کے فیصلوں کے باوجود اس سے محروم کیا جا رہا ہے،سی ڈی اے مزدور یونین ادارے کی نمائندہ تنظیم ہے جو پانچویں دفعہ منتخب ہو کر آئی ہے اور ہم نے اپنے دور میں سی ڈی اے ملازمین کو بے شمارمراعات دلوائیں ہیں،2006میں سی ڈی اے ملازمین کو ہزاروں پلاٹ الاٹ کروائے اور مزید 4000پلاٹوں کی منظوری کروائی اور 30اپریل 2011کو پلاٹوں کی قرعہ اندازی کی تاریخ مقررکروائی لیکن ہمارے مخالفین نے عدالتوں سے حکم امتناعی لے لیا اورآج ایک دفعہ پھرچودہ سال بعد مزدوروں کے حق میں پلاٹوں کا فیصلہ آیا ہے لیکن سی ڈی اے انتظامیہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجودسی ڈی اے ملازمین کوپلاٹ الاٹ کرنے سے قاصر ہے اور عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے جس پر ادارے کے ہزاروں ملازمین احتجاج کرنے پر مجبورہیں،
چوہدری محمد یٰسین نے کہا کہ سی ڈی اے ملازمین ادارے کی ترقی اور اسلام آباد کی تعمیر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر ان کے حقوق کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں جس پر ہم چیئرمین سی ڈی اے،بورڈ ممبران اور سی ڈی اے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدالتوں کے احکامات کی روشنی اور مزدور یونین کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت سی ڈی اے ملازمین کو جلد پلاٹ الاٹ کیے جائیں اور ملازمین کے دیگر مطالبات کو فوری طور پر حل کیا جائے،
اس موقع پر احتجاجی جلسے میں شریک ملازمین نے پلاٹوں کے حصول کے لیے نعرے بازی کی اوراپنے قائد چوہدری محمد یٰسین کو یقین دلا یا کہ وہ پلاٹوں کے حصول کے لیے جو بھی لائحہ عمل کااعلان کریں گے تمام ملازمین ان کے شانہ بشانہ ہونگے،احتجاجی جلسے سے مزدور یونین کے صدراورنگزیب خان،راجہ شاکر زمان کیانی،حاجی صابر،مرزاسعیداختر،ملک عاصم،اظہارعباسی،اظہر خان تنولی،چوہدری زاہد احمد،وارث دلیپ،زاہد بھٹی،ساجد رشید،قاری شیر عالم سیالوی،چوہدری واجد گجر و دیگرنے بھی خطاب کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتاریخ میں پہلی بار 2600 ارب روپے قرض قبل ازوقت واپس کیا گیا، ترجمان وزارت خزانہ بھارت جنگ ہار گیا، کرکٹ کے میدان میں ہاتھ نہ ملانے کا مقصد خفت مٹانا ہے: عطا تارڑ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی مبینہ جعلی ڈگری کیس میں بڑی پیشرفت وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات،امت مسلمہ کے اتحاد پر زور کابینہ ڈویژن نے نیا توشہ خانہ ریکارڈ جاری کردیا ،تحائف کی مکمل فہرست سب نیوز پر دستیاب پنجاب میں مون سون کا 11واں اسپیل، کن شہروں میں بارش کا امکان؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کا سی ڈی اے کو (ایچ-16 )ایوارڈ پر کام سے روکنے کا حکمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پلاٹوں کی قرعہ اندازی نہ سی ڈی اے مزدور یونین سی ڈی اے ملازمین کو چوہدری محمد ی سین اسلام آباد کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔