ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند سرکاری ملازمین کی بڑی مشکل آسان
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
سٹی 42 : ٹریفک پولیس نے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند سرکاری ملازمین کی بڑی مشکل آسان کردی۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے سرکاری ملازمین کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کی خصوصی مہم شروع کر دی۔ اس حوالے سے ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مہم 17 سے 26 ستمبر تک جاری رہے گی جس دوران ٹریفک دفاتر اور موبائل وینز پر تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
سی ٹی او اسلام آباد کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں، بطور سرکاری ملازم احتساب کا آغاز سب سے پہلے خود سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 26 ستمبر کے بعد بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔
کاہنہ ؛معمولی جھگڑے کے دوران فائرنگ؛ 2 افراد زخمی
سی ٹی او نے کہاکہ ٹریفک پولیس کے تمام دفاتر اور وسائل سرکاری ملازمین کو سہولت فراہم کریں گے تاہم خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی بند کرنے سمیت محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد قانون کی پاسداری اور ٹریفک نظام میں بہتری لانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈرائیونگ لائسنس سرکاری ملازمین
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔