سرکاری ملازمین کیلئے پنشن کا پرانا نظام بحال
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک:سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کیلئے اعلان کردہ کنٹری بیوشن پنشن سکیم ختم کرتے ہوئے نئے ملازمین کے لیے پنشن کا پرانا نظام بحال کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ستمبر 2024کو سندھ کابینہ نے نئے بھرتی ہونے والے صوبائی ملازمین کے لیے سندھ ڈیفائنڈ کنٹری بیوٹری پنشن سکیم (SDCPS) کی منظوری دی تھی جس کے تحت سرکاری ملازمین کو پنشن اور گریجویٹی کی جگہ کنٹری بیوشن پنشن دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
پاکستان میں مشرق ڈیجیٹل بینک کا آغاز، امارات سے پاکستانی مفت ترسیلات زر بھیج سکیں گے
سکیم کے تحت ہر سرکاری ملازم 10فیصد بنیادی کا ہر ماہ جمع کراتے تھےجب کہ حکومت اس ملازم کی بنیادی تنخواہ کا 12فیصد جمع کراتی۔
کابینہ سے منظوری کے بعد یکم نومبر کو اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی کی زیر صدارت ستمبر میں کابینہ نے ایس ڈی سی پی ایس 2024 کے لیے سندھ سول سرونٹ ایکٹ 1973میں نئی شق داخل کرنے کی منظوری دی تھی۔
کویتی شہریت سے محروم افراد کے لیے بڑی خوشخبری
مجوزہ ترمیم کے مطابق سندھ سول سرونٹ (ترمیمی) ایکٹ 2024کے آغاز پر یا اس کے بعد سرکاری ملازم کے طور پر تعینات یا ریگولرائز ہونے والے فرد کو پنشن اور گریجویٹی کے علاوہ سرکاری ملازم تصور کیا جائے گا۔
تاہم اب ایک سال بعد 17ستمبر کو سیکرٹری فنانس کی جانب سے جاری آفس میمورینڈیم کے مطابق یکم نومبر 2024 کو اس سلسلے میں جاری آفس میمورینڈیم واپس لے لیا گیا ہے اور اس طرح اب یہ سکیم ختم کر دی گئی ہے۔
گوجرانوالہ میں فوڈ پوائزننگ سے ایک اور بچی جاں بحق، تعداد 4 ہوگئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سرکاری ملازم کے لیے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔